مرزا غلام قادر احمد — Page 372
372 پھول خواہش کے لئے یوں گھر سے نکلا ایک دن پھر نہ آنے کے لئے کیوں گھر سے نکلا ایک دن آنکھ یوں موندی کہ ساری عمر جیسے کٹ گئی پھول برسے اس قدر پھولوں سے جھولی اٹ گئی تجھ کو عظمت کی مبارکباد - هرچه بادا باد - تو سدا زندہ رہا۔زندہ رہے گا۔زندہ باد - ڈاکٹر فہمیدہ منیر (الفضل یکم رمئی 1999ء) آدیکھ شام کربلا۔۔۔۔قادر نے پھر شبیر کی یادوں کو تازہ کر دیا صدق وفا کے باب کو اسوۂ پیغمبر کر دیا آدیکھ شام کربلا باز و قلم ہونے لگے شانوں سے پھر عباس کے پہرہ یزیدوں کا ہے پھر دریا پہ۔۔۔دن ہیں پیاس کے آدیکھ شام کر بلا۔۔