مرزا غلام قادر احمد — Page 363
363 اک کٹھن مرحلہ اور بھی ہے یعنی وہ مادر مشفق تیری صبر و تسلیم کی چادر اوڑھے یاد سینے سے لگائے۔خاموش دم بخود مُہر بلب بیٹھی ہے اور پھر وہ عفیفہ - میری بیٹی۔میری عزت تیری جیون ساتھی لٹ گیا جس کا سہاگ اور وہ ننھے فرشتے چاروں ہو بہو باپ کی تصویر ان کھلے غنچے مرے باغ کے پھول جگر کے ٹکڑے مرے نورِ نظر سطوت اور کرشن مفلح اور نورالدین ان کو کچھ علم نہیں حشر برپا ہوا کیسی قیامت ٹوٹی ان کو سمجھاؤں تو کیسے سمجھاؤں