مرزا غلام قادر احمد — Page 343
343 پبلک اسکول کا کپتان بھی رہ چکا ہے۔اس کے کھیل کی خصوصیت پینلٹی کک کی تھی۔اتنی شاندار پینلٹی لگاتا تھا کہ ہمیشہ گول کیپیر مات کھا جاتا۔قا در کرکٹ کا شوقین بھی تھا جب امریکہ سے واپس آیا تھا ان دنوں ہمارے ربوہ میں رہنے والے رشتہ دار اور لاہور میں رہنے والے رشتہ داروں کے درمیان کرکٹ میچ ہو رہا تھا قادر کو اس کے ایک کزن نے کہا کہ تم لاہور کی طرف سے کھیلو۔اس پر قادر نے انکار کر دیا اور کہا کہ میں ربوہ کی طرف سے کھیلوں گا یہ قادر کی اپنے پیارے شہر ربوہ سے محبت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔کرکٹ کے میدان میں قادر کو داد اس کی بیگم کی طرف سے ہی ملتی تھی۔قادر کچھ عرصہ کے لئے ہمارا ہمسایہ بھی رہا ہے۔یہ دونوں بہت اچھے ہمسائے تھے جب وہ دونوں تحریک جدید کے کوارٹرز میں جارہے تھے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ جیسے ہمسائے قسمت سے ملتے ہیں اس پر قادر کی دلکش مسکراہٹ نہ تو تائید کر رہی تھی نہ ہی انکار۔یہ دسمبر 1991ء کی بات ہے ہم رات پہرے پر تھے ایک بجے ایک صاحب سوٹ کیس اٹھائے آ رہے تھے۔قریب سے دیکھا تو قادر تھا جو قادیان کے جلسہ سے واپس آیا تھا میں نے اس کے ہاتھ سے سوٹ کیس لینا چاہا مگر قادر نے انکار کر دیا۔اس پر میں نے قادر کو مذاق سے دھمکی دی کہ اگر آپ سامان نہیں اُٹھانے دیں گے تو میں نہیں بتاؤں گا کہ آپ کی بیگم کہاں ہے؟ قادر کی بیگم ہمارے ہاں سو رہی تھیں اور پُرزور تاکید کی تھی کہ قادر آئے گا تو فوراً مجھے جگا دینا۔قادر کو گھر چھوڑنے کے بعد جب میں واپس آنے لگا تو قادر نے مجھے رکنے کے لئے کہا تھوڑی ہی دیر میں ہاتھ میں گرم چترالی ٹوپی لے کر