مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 329 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 329

329 بھی کئی جاں نثاروں نے تاریخ افغانستان کے کئی درخشندہ باب اپنے خون سے رقم کئے۔اب یہ صدی جو اختتام کو پہنچ رہی ہے اس میں سینکڑوں” شاتان“ ذبح کی گئیں۔سیدنا حضرت امام جماعت احمدیہ نے مسلسل خطبات کے ذریعہ ان رُوح پرور یادوں کو ، جو بھولی تو نہیں تھیں، کچھ مدھم ضرور ہوگئی تھیں پھر سے تازہ کر دیا ہے۔اب اس گلستانِ عشق و وفا میں پھر بہار آ گئی ہے۔سچ ہے اقوام و ملت کی کھیتیاں پانی سے نہیں خون سے سینچی جاتی ہیں۔راه خدا میں ان جان پر کھیلنے والوں کی تاریخ پر ہمیں بجا طور پر فخر ہے۔اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرماتا رہے۔وہ ہمیں مسلسل دعوت عمل دے رہے ہیں۔اور بزبانِ حال کہہ رہے ہیں کہ یہ ہمیں تھے جن کے لباس پر سر راہ سُرخی ملی گئی یہی داغ تھے جو سجا کے ہم سر بزم یار چلے گئے آج کی نشست میں علم و ادب کے جس نابغہ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں وہ ایک کم سخن وسیع النظر، مومنانه فراست، بلندی کردار اور اخلاق حسنہ کا حامل جوان رعنا تھا۔جیسا کہ اوپر اظہار کیا ہے کہ اس صدی کے شروع میں کابل کی پہاڑیوں کی اوٹ میں حق کو قبول کرنے کے جرم میں قتل و غارت کا بازار گرم کیا گیا تھا۔وقتاً فوقتاً اس کا تسلسل جاری رہا۔نہ بجھا سکیں انہیں آندھیاں جو چراغ ہم نے جلائے تھے کبھی کو ذرا سی جو کم ہوئی تو لہو سے ہم نے اُبھار دی اللہ کی راہ میں جان فدا کرنے اور خون بہانے کی داستان لرزہ خیز بھی ہے اور ایمان افروز بھی۔