مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 253 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 253

253 ہیں۔بچے میں ” مینی“ نہیں، قدسیہ تو اسی طرح چٹان کی طرح کھڑی ہے اور شکر کر رہی ہے کہ خدا نے ہمیں یہ سعادت بخشی مگر بچے یہ مامتا بہت بُری بلا ہے یہ مامتا ہے جو آنسو ضبط نہیں کر سکتی۔جب میں تمہاری یاد میں روتی ہوں تو سوچتی ہوں میرا بچہ بھی اپنے بچے چھوڑ گیا ہے اور دُعا کرتی ہوں یا اللہ یہ سارے دُکھ مجھے دے دے۔میرا بچہ وہاں اپنے بچوں کو یاد کر کے نہ روئے۔میں نے اپنے بڑے بیٹے سے کہا مودی! میں تو دُکھی ہوں۔مگر مجھے یہ دُکھ بہت دُکھ دے رہا ہے کہ قادر اپنے بچے یاد کر رہا ہو گا۔وہ مجھے تسلی دینے لگا کہ امی خدا ہر چیز پر قادر ہے۔آپ کو کیا پتہ خدا نے اسے وہاں بھی یہ بچے دے رکھے ہوں۔میں نے سوچا ٹھیک ہے۔خدا تو ہر چیز پر قادر ہے۔قادر کے وقف کی اتنی خوشی تھی۔قادر کے بعد مجھے لگا میری جھولی اس نعمت سے خالی ہوگئی ہے مگر نہیں۔۔۔مجھے اُمید ہے یہ سلسلہ جاری رہے گا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دُعاؤں کے وارث پیدا ہوتے رہیں گے۔قادر کے لئے تو صرف میری دُعا ئیں تھیں اس کے بچوں کے لئے خلیفہ وقت اور ساری جماعت کی دُعائیں ہیں۔میرے بچے کا خون ضائع نہیں جائے گا اس کے خون کا ہر قطرہ ایک نیک نسل چلائے گا۔انشاء اللہ خدا تعالیٰ ہمیں اپنے فضل کی چادر میں لپیٹ لے۔ہر آنے والا دن جانے والے دن سے اچھا ہو۔قادر کے معصوم بچوں کا حامی و ناصر ہو۔میں تو اس دن سے تمام شہدائے احمدیت کے بچوں کے لئے قادر کے بچوں کے ساتھ دعا مانگتی ہوں قادر کی شہادت بھی ایک اعزاز ہے۔غم میں لپٹی خوشی ہے۔خدا آئندہ خوشیوں میں لپٹی خوشیاں دے۔اس کے بچوں کو سکون عطا کرے ہمارا غم یہ بچے بھولنے نہیں دیتے۔جڑواں میں سے ایک بچہ تو باپ کو اتنا یاد کرتا ہے کہ ہم خود ضبط نہیں کر سکتے۔تصویریں لان میں لے جاتا ہے کہ بابا کو سیر کروا رہا