مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 234 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 234

234 کے لئے عمر، دولت، ارادت وسعادت لکھ دے۔“ قادر کی قربانی سے چند دن پہلے میرے پرانے کاغذات سے یہ دُعا نکلی۔خدا جانے کس جذبے سے میں نے کی تھی۔جو قبول ہوئی۔چندلمحوں کے لئے میرا دل کانپا یا اللہ میں نے تو ان کے لئے جانی قربانی مانگی ہے۔سرفروشی مانگی ہے ) اندر سے مامتا بولی یا اللہ چھوٹی عمر میں ان سے یا مجھ سے قربانی نہ لینا۔اور میں دُعا مانگنے میں لگی۔یا اللہ عمر دراز دینا۔مجھے کیا پتہ تھا میری دُعا تو قبول ہو چکی ہے۔اور جوانی میں اللہ یہ قر بانی لینا چاہتا ہے۔اور خدا کا یہ فیصلہ ہو چکا ہے۔کہ جوانی میں میرا بچہ مجھ سے لے لے گا۔جتنی بڑی قربانی ہو گی۔اتنا ہی بڑا اجر ہو گا۔خدا کی رضا پر میرا بچہ آج سے 38 سال پہلے جب ہونے والا ہوا۔ہم بہت گھبرائے۔اس کی بہن ابھی دو تین ماہ کی تھی۔افریقہ میں جہاں کوئی عزیز پاس نہ تھا۔( میرے میاں جماعت کی طرف سے افریقہ گئے ہوئے تھے ) ملازم خاطر خواہ ملتے نہیں تھے۔سخت پریشان تھے۔چونکہ چار پانچ مہینے میں بیمار رہتی تھی۔ہماری خواہش تھی کہ اتنی جلدی دوسرا بچہ نہ ہو مگر خدا نے دینا تھا۔یہ آیا بھی اچانک تھا۔صرف اور صرف خدا کی مرضی پڑ اور گیا بھی اچانک محض خدا کی رضا پر۔ہم نے جب بھی خدا کی رضا پر سر جھکا دیا تھا۔اور اب بھی اس کی رضا پر راضی ہیں۔جب قادر پیدا ہوا۔ابا جان کی وفات پر میں لاہور میں تھی۔امی نے اسپتال خان صاحب ہمارے ڈرائیور کو جو ہمارے عزیز بھی تھے، بھیجا۔کچھ سامان دے کر واپس جا کر انہوں نے امی سے کہا کہ بی بی تو بہت خوش تھیں۔