مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 210 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 210

210 کرواتے۔خود سامنے کھڑے ہو جاتے اور ہمیں کہتے کہ ایک سیدھ میں پیج ڈالو۔باقاعدہ نگرانی کرتے۔غصہ میں کبھی نہ آتے تھے۔اگر کبھی کسی سے پانی وغیرہ کا یا کوئی نقصان ہو جاتا تو بھی درگزر کرتے لیکن یہ ضرور دیکھتے کہ نقصان جان بوجھ کر کیا گیا ہے یا بشری کمزوری کے تحت ہوا ہے۔اگر کبھی ہم یا ہمارے گھر والوں میں سے کوئی بیمار ہوجاتا تو ہر ممکن مدد کرتے اور اسپتال سے بھی مدد دلواتے۔خود بھاگ دوڑ کر کے اکثر مفت علاج کروا دیتے۔ایک خاص شفقت ان کی یہ تھی کہ مشکل وقت میں کسی کی جو مالی مدد وغیرہ کرتے تو بعد میں بھی اس سے وصول نہ کرتے اور اگر کوئی شخص واپس لوٹانے کا تقاضا کرتا تو اسے کہتے کہ تمہارے بچے بھی میرے بچوں ہی کی طرح ہیں۔آپ سب سے ٹھیٹھ پنجابی زبان میں گفتگو کرتے اور کبھی کسی پر اپنی علمیت کا رُعب نہ جھاڑتے۔عید الفطر اور عید الاضحیٰ کے موقع پر ہر ملازم کو پانچ سو روپیہ دیتے تھے اور کئی دفعہ آپ اکٹھا نیا کپڑا خرید کر لاتے اور ملازمین کو تحفتاً سوٹ وغیرہ بنوانے کے لئے دے دیتے۔یہ سب کچھ مقررہ تنخواہ کے علاوہ ہوتا تھا۔اگر کسی بیلدار کے ہاں دورانِ سال اناج وغیرہ ختم ہو جاتا تو اسے ضرورت کے مطابق اناج مہیا کرتے اور بعد میں تقاضا بھی نہ کرتے۔ہماری کسی بچی یا بچے کی شادی کے موقع پر خوشی سے اضافی امداد بھی کرتے۔آپ کا اپنے ملازمین کو سمجھانے کا انداز بھی بڑا دلنشین تھا۔ایک بار قادر صاحب نے انہیں 25, 25 روپے جرمانہ کر دیا۔واقعہ کچھ یوں ہے کہ آپ نے انہیں کسی کھیت میں پنیری ڈالنے سے متعلق ہدایت دی۔کہ زمین مزید ہموار کرنا اور پھر بیج ڈالنا۔انہوں نے محنت سے بچنے کے لئے اس ہدایت پر صحیح طور پر عمل نہ کیا اور بیج ڈال دیا۔جب آپ کو اس بات کا پتہ لگا تو سرزنش کی اور کہا کہ اس بار تم دونوں کی تنخواہ سے 25 روپے کاٹ لئے جائیں گے