مرزا غلام قادر احمد — Page 208
208 ہوئے دیکھا۔میں نے سلام کیا اور پوچھا کیا تم قادر ہو۔تو وہ وہیں ٹھٹھک کے رُک گیا کہ جیسے زمین نے اُس کے قدم پکڑ لئے ہوں گو کہ میں نے اُس وقت برقع پہن رکھا تھا۔لیکن یہ اس کی ذہانت ہی تھی کہ اپنے عرصہ کے بعد بھی اُس نے میری آواز پہچان لی تھی۔اُس وقت نہ میں اُستاد تھی اور نہ وہ طالب علمی کا زمانہ، لیکن پھر بھی وہ میرے سامنے یوں مؤدب کھڑا تھا جیسا کسی فوجی کے سامنے اُس کا کوئی بہت اعلیٰ افسر کھڑا ہوتا ہے۔آنکھوں میں بے انتہا عقیدت تھی اور عجیب محبت بھرا شاگردانہ انداز تھا کہ خود ہی معذرت کرنے لگا کہ سلام میں پہل اُسے کرنی چاہیے تھی حالانکہ اس میں اُس کی کوئی غلطی نہ تھی۔میرے لئے وہ اب بھی اس طرح بچہ تھا بھولا بھالا معصوم قادر۔وہ اُن طالب علموں میں سے تھا کہ جسے ہر اچھا اُستاد اپنا شاگرد بنانا چاہے کہ جو نہ صرف اپنا نام روشن کرنے والا ہو بلکہ اُستاد کا نام بھی اُس کے باعث جگمگا اُٹھے۔مزارعین سے حسن سلوک : زمینداری میں قادر کی شخصیت کا ایک اور رُخ سامنے آیا۔اور یہ رُخ تھا مزارعین پر شفقت و مہربانی کا، انہیں اپنے جیسا انسان سمجھنے کا، اُن سے حُسنِ سلوک کرنے کا، اللہ تعالیٰ کو یہ رُخ بہت محبوب ہے۔محترم شہزاد عاصم صاحب زمینوں پر جا کر مزارعین سے ملے اور اُن کی یادوں کو سمیٹ کر لے آئے۔رشید احمد صاحب ابن مکرم شیر علی صاحب (ساکن دار النصر شرقی ) نے شہادت تک قادر کے ساتھ کام کیا یہ ٹریکٹر ڈرائیور ہیں بتاتے ہیں کہ شروع میں ہم نے بابو ٹائپ بندے کو دیکھ کر سمجھا کہ یہ کیا سمجھے گا زمینوں کو۔۔۔۔۔۔۔مگر جلد ہی اندازہ ہو گیا کہ یہ بڑے حساب کتاب والے بندے ہیں۔فٹافٹ اندازہ لگا