مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 191 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 191

191 ہوتا ہے جو کام مجھے پروگرامنگ سے متعلقہ دیتے اُس کا مقصد صرف مجھے سکھانا ہوتا تھا پریٹیکلی (Practically) جو کام میں نے کرنا ہوتا تھا اُس کا فائدہ نہیں ہوتا تھا۔دنیا میں اتنا مصروف ترین کمپیوٹر پروفیشنل شائد ہی کوئی ہو۔1989ء میں جب قادر صاحب کی تقرری یہاں ہوئی تو آپ نے آتے ہی ایک نئے سسٹم کا مکمل انفراسٹرکچر Develop کیا اور وہ بھی ایک ایسے ماحول میں جہاں کمپیوٹر کا Concept ہی نہیں تھا۔سب کو اس کی abc سے سکھانا شروع کیا۔کیونکہ جہاں بھی کمپیوٹر کا استعمال ہونا ہو پہلے اس سسٹم سے متعلقہ تمام لوگوں کو اس کا ادراک بہم پہنچانا بہت ضروری ہوتا ہے۔دفتری طور پر اُس زمانہ میں اور اس زمانہ میں ایک بہت بڑا فرق یہ ہے کہ آج اگر ایک کمپیوٹر پچاس ہزار کا بھی خریدنا ہو تو دفتری پراسیس میں اس کی منظوری وغیرہ کے مراحل کم و بیش ایک ہفتہ میں طے ہو جاتے ہیں۔جب کہ اُس زمانے میں کمپیوٹر کا ادراک زیادہ نہ ہونے کی وجہ سے اگر کوئی کمپیوٹر خریدنا ہوتا تو وہ اس قدر مہنگا ہوتا کہ اس کی چھان پھٹک پر پورا سال لگ جاتا اور جب منظوری ہوتی تو کوئی نیا ماڈل آچکا ہوتا۔فلاپی ڈسک کا ڈبہ تک خریدنے کے لئے منظوری کے مراحل سے گزرنا پڑتا۔جگہ جگہ کمپیوٹر کا علم نہ رکھنے والوں کو اپنی بات تفصیل سے سمجھانا اور پھر بار بار سمجھا کر انہیں قائل کرنا۔اس قسم کے حالات وقت کا تقاضا تھے۔لیکن یہاں قادر صاحب کو بے اختیار داد دینا پڑتی ہے کہ یہ آپ ہی کا حوصلہ اور صبر تھا کہ امریکہ جیسے تیز تر ماحول میں ٹرینگ مکمل کرنے کے بعد ایک ایسے سسٹم میں اپنے آپ کو مکمل طور پر یوں ایڈجسٹ کر لیا گویا آپ اسی کا حصہ تھے۔شروع میں ہارڈ ویئر کا چھوٹے سے چھوٹا کام بھی لاہور سے کروایا جاتا تھا۔یہاں تک کہ کمپیوٹر میں Blower ( تیز ہوا سے مٹی اڑانے کے لئے)