مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 190 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 190

190 طریقے بھی آپ سے سیکھے اور کمپیوٹر سے متعلقہ علم بھی حقیقت میں قابل عمل حالت میں آپ ہی سے سیکھا۔قادر صاحب کا وجود بہت بارعب تھا لیکن یہ رُعب محبت کا رُعب تھا خاص طور پر مجھے اپنی کیفیت معلوم ہے میں قادر صاحب سے اُن کی صلاحیتوں کی وجہ سے مرعوب تھا اور اگر مؤدب تھا تو آپ کی نفیس شخصیت کی وجہ سے۔بعض دفعہ انسان مؤدب ہوتا ہے کہ دوسرا کہیں نقصان نہ پہنچائے لیکن قادر صاحب کی عزت اور احترام قدرتی تھی۔کبھی بھی خیال نہیں آیا تھا کہ اگر میں مؤدب نہ ہوا اور خوشامد نہ کی تو قادر صاحب سے کوئی فائدہ نہ اٹھا سکوں گا۔خوشامد وغیرہ کی بات تو دور کبھی میں نے نہیں دیکھا کہ کوئی ان کے منہ پر ان کی تعریف کر رہا ہو اور آپ بشاشت سے سُن رہے ہوں ہمیشہ فوراً بات کو کسی اور جانب لے جاتے ہوئے دیکھا۔دفتری معاملات میں اُصول و قواعد کو بالاتر رکھتے۔اس معاملے میں وہ بڑے سے بڑے افسر اور چھوٹے سے چھوٹے کارکن سب کو برابر رکھتے۔ہر دفتری معاملہ میں زبانی بحث و مباحثہ کرنے کی بجائے تحریر دینے کو ترجیح دیتے۔کام سیکھنے کے شوق میں خاکسار میاں صاحب کے ذاتی کمپیوٹر پر بیٹھ جاتا جو ابتدا میں تو انہیں پسند نہیں تھا مگر بعد میں میرا جنون سمجھ کر صرف نظر کرتے۔اُس زمانے میں پروگرامنگ اتنی سیکریٹ اور پرائیوٹ ہوا کرتی تھی کہ جو جانتا تھا وہ دوسروں کو بے خبر رکھنے کی کوشش کرتا لیکن جہاں تک میں سمجھتا ہوں قادر صاحب نے اسٹاف میں سے مجھے نا اہل کو پروگرامنگ سکھانے کے لئے خاموشی سے چن لیا تھا۔پھر آہستہ آہستہ مجھے چھوٹے چھوٹے پروگرام کے Modules پروگرامنگ کے لئے دینے شروع کئے جب میں نے کوئی چیز پوچھی تو احساس یہ ہوا کہ شاید وہ منتظر تھے کہ میں اُن سے پوچھوں۔اب مجھے احساس