مرزا غلام قادر احمد — Page 133
133 وقف زندگی: قادر انجینئر نگ یو نیورسٹی کے دوسرے سال میں تھے۔جب 24 /ستمبر 1983ء کو حضرت خلیفہ اسیح الرابع ایدہ اللہ بنصرہ العزیز کے توسط سے اپنی زندگی اللہ تعالیٰ کے حضور وقف کر دی۔آپ حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی نسل میں سے دوسری سیڑھی کے پہلے بچے تھے۔جس کو یہ سعادت نصیب ہوئی۔اس طرح اس گھرانے میں وقف کا سلسلہ جاری رہا۔آپ کے والد صاحبزادہ مرزا مجید احمد واقف زندگی ہیں۔پھر قادر نے بطیب خاطر حیات عزیز اللہ تعالیٰ کو سونپ دی۔یہ آپ کا ذاتی فیصلہ تھا اور اس ذاتی فیصلے میں برس ہا برس کی والدین کی دُعائیں اور تربیت شامل تھی۔ایک روحانی سلسبیل جاری تھی۔جس کے فیوض آپ کے قلب صافی نے جذب کئے۔آپ نے حقیقتا عہد بیعت نبھایا اور دین کو دنیا پر مقدم رکھا یہ سب اللہ تعالیٰ کے فضل و احسان ہیں۔آپ کے والد صاحب بیان فرماتے ہیں: وو ” وقف قادر نے اپنی مرضی سے کیا تھا۔ہماری طرف سے قطعاً اُسے نہیں کہا گیا تھا۔لیکن جب اُس نے وقف کیا تو ہم نے اُس سے کہا تھا تم اس بات کی فکر نہ کرنا کہ کبھی کوئی مالی مسئلہ در پیش ہو گا۔بلکہ ہم ہر طرح سے اور مکمل طور پر تعاون کریں گے۔میں سمجھتا ہوں کے ایسے معاملات میں اولاد کو فری ہینڈ دے دیا جائے تو وہ اپنے فیصلے احسن رنگ میں کر سکتی ہے۔ایسا ہی اظہار والدہ صاحبہ نے بھی کیا کہ اگر چہ اُن کی شدید خواہش