مرزا غلام قادر احمد

by Other Authors

Page 105 of 503

مرزا غلام قادر احمد — Page 105

105 خیر یہ تو ایک مذاق تھا ورنہ یہ ہماری دوسری کوشش تھی اس دفعہ صرف قادر نے اور میں نے ٹیسٹ دیا تھا اور ہم دونوں کو داخلے کے لئے منتخب کر لیا گیا تھا۔حُسنِ اتفاق یہ ہوا کے ہماری کارکردگی سے زیادہ درخواست دہندگان کی قلت کام آ گئی۔تعلیم شروع ہوئی تو سب کچھ انگلش میں تھا۔خاک بھی پلے نہ پڑتا۔پھر مدثر کو بھی داخلہ مل گیا۔ہم لیاقت ہاؤس میں تھے۔میں اور قادر کمرہ نمبر 10 میں اور مدثر کمرہ نمبر گیارہ میں رہتے تھے۔اچھی بات یہ تھی کہ شام کو کھیلنا لازمی تھا۔قادر کھیل میں بہت دلچسپی لیتا تھا۔“ قادر کے کزن اور اسکول کے ساتھی سید مدثر احمد تحریر کرتے ہیں:۔اسکول کا ماحول بہت اچھا تھا۔معیار بہت اونچا تھا اور اگر کہا جائے کہ ایسے زبر دست تعلیمی ادارے میں تعلیم پانے کے باعث قادر ایک ذہین اور محنتی طالب علم کے طور پر اُبھرا۔تو شاید بے جا نہ ہو۔اسکول کی دو بلڈنگز تھیں۔ہاوسز سے مُراد گروپس تھے۔کل چھ ہاؤس تھے۔جن کے نام مشہور قومی شخصیات کے نام پر رکھے گئے تھے۔یعنی لیاقت، اقبال، جناح، سرسید، نشتر اور رحمان جو کہ پرنسپل صاحب کا نام تھا۔ہفتہ میں ایک بار دھوبی یونیفارم وغیرہ دھونے کے لئے لے جایا کرتا تھا۔باقی کپڑے تمام طلباء خود ہی اتوار یعنی چھٹی والے دن دھویا کرتے تھے۔چھٹی کا دن ٹی وی (TV) دیکھ کر یا کوئی میچ دیکھ کر گزارا جاتا اور اپنے سبھی Pending کام بھی اسی دن نپٹانے ہوتے تھے۔کھانا میس (Mess) میں ملتا تھا جس کے لئے وقت مخصوص ہوتا۔اسی طرح اتوار کے علاوہ دیگر دنوں میں بھی رات نو بجے کمرے کی لائٹیں بند کرنا پڑتی تھیں اور اس وقت کے بعد کوئی ٹی وی (TV) وغیرہ بھی نہ دیکھ سکتا تھا۔یہ سب کچھ ڈسپلن کا حصہ تھا کہ جلدی سویا جائے