مرزا غلام قادر احمد — Page 104
104 سنی تھی۔میں نے چونکہ ایبٹ آباد پبلک اسکول میں نویں کلاس میں داخلہ لیا تھا۔اس لئے مجھے زیادہ پریشانی نہ اٹھانی پڑی تھی۔لیکن قادر ابھی بہت معصوم سا تھا۔مگر سوائے خدا تعالیٰ کی ذات کے یہ بات کسی کے علم میں نہ تھی کہ یہی ٹریننگ ایک دن آنے والے وقت میں اس کے لئے انتہائی مفید ثابت ہو گی۔ڈاکٹر مرزا سلطان احمد صاحب نے قادر کے ساتھ گزارے ہوئے دنوں سے بڑا انصاف کیا ہے۔کافی تفصیل سے لکھا ہے اور انداز تحریر میں لڑکپن جیسی شوخی نے جان ڈال دی ہے۔چھٹی ساتویں میں ہماری تعلیمی حالت اتنی گر چکی تھی کہ ہمیں ربوہ سے باہر کسی اسکول میں داخل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔پہلا انتخاب کیڈٹ کالج حسن ابدال تھا۔مدثر کے والد محترم سید احمد ناصر صاحب مدثر، قادر اور مجھے ساتھ لے کر لاہور آ گئے۔وہاں سے ہمارے خاندان کے چوتھے لڑکے سیّد ہاشم اکبر بھی شامل ہو گئے۔داخلے کا امتحان دے کر سب کا اندازہ تھا کہ %70 نمبر تو کہیں نہیں گئے بلکہ اوپر ہی آئیں گے۔بہت خراب طالب علم کی پہلی نشانی یہی ہوتی ہے کہ امتحان دینے کے بعد بھی اُسے احساس نہیں ہوتا کہ اچھی کارکردگی دکھا کر نہیں آیا ہے۔ہمارا بھی یہی حال تھا۔دعویٰ بہت اونچا تھا مگر نتیجہ آیا تو چاروں ہی ناکام قرار دیے گئے۔اگلا انتخاب ایبٹ آباد پبلک اسکول تھا۔اس میں داخلے کا امتحان سینٹرل ماڈل اسکول لاہور میں ہوا۔اس دفعہ میرے والد صاحب ہمیں لے کر گئے۔جب ہم قادر کو لے کر اُس کے گھر سے نکل رہے تھے تو قادر کے والد صاحب میری دادی جان سے کہنے لگے۔آپا جان ان کے لئے دُعا کریں کیونکہ پنجاب کے آدھے اسکولوں میں تو یہ کوشش کر چکے ہیں۔“