غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ — Page 3
غلام فاطمہ بیگم ، میمونہ بیگم 3 اور فاطمہ بیگم تھیں۔چنانچہ آپ نے اپنی دونوں بچیوں کی تعلیم و تربیت پر بہت توجہ کی۔اللہ تعالیٰ نے ذہن بھی اچھا عطا فرمایا تھا۔گھر میں ہر وقت پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ جاری رہتا اس لئے بہت جلد ترقی کر گئیں اور کم عمری میں ہی عام دینی علوم اور درسی کتابوں کے علاوہ گھر کے کاموں میں بھی ماہر ہوگئیں۔اچھی اچھی باتیں سیکھنے کی وجہ سے دونوں بیٹیاں سب کو اچھی لگتی تھیں۔جب ان کے والد ان کو پڑھاتے تو دوسری لڑکیاں بھی سبق میں شامل ہو جاتیں۔اس سے اور بھی فائدہ ہوا۔سہیلیاں بھی ایسی ملیں جن کو دین کا شوق تھا۔اس عمر کی تعلیم سے بہت فائدہ ہوا کیونکہ پھر جب یہ بیٹیاں بڑی ہوئیں تو اپنے اپنے گھروں میں بھی پڑھنے پڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔میمونہ بیگم صاحبہ جو فاطمہ بیگم صاحبہ کی بڑی بہن تھیں بہت خوبصورت آواز میں قرآن مجید پڑھتیں۔انہیں تلاوت کرتے کرتے قرآن پاک تقریباً حفظ ہو گیا تھا۔آواز بلند تھی جلسہ سالانہ میں تلاوت کی بھی سعادت ملتی۔خود غلام فاطمہ صاحبہ بھی بہت خوبصورتی سے قرآن پاک پڑھیں آہستہ آواز میں پڑھنا انہیں نا پسند تھا، بلند آواز سے قرآن شریف پڑھنے کی تلقین کیا کرتی تھیں اور فاصلے سے بھی پڑھنے والے کی غلطی پکڑ لیتی