غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ

by Other Authors

Page 18 of 23

غلام فاطمہ بیگم صاحبہؓ، میمونہ بیگم صاحبہؓ — Page 18

غلام فاطمه بیگم ، میمونہ بیگم 18 اپنے ماحول میں دلچسپی نہ لیتی تھیں۔خاموش رہتیں جس سے تکلیف بڑھنے لگی Arthritis کی تکلیف بڑھ گئی۔گھٹنے میں بہت درد رہتا۔1971 ء میں اپنے بیٹے شمیم اور بہوذ کیہ کے ہمراہ عمرہ کی سعادت بھی حاصل ہوئی۔1972ء کے بعد تو وہ بالکل بستر پر لگ گئیں۔دونوں گھٹنے بے کار ہو گئے۔چلنے پھرنے سے معذور ہو گئیں۔اتنی تکلیف میں بھی ہر وقت صبر و شکر کے کلمات ہی بولتیں۔شدید درد بھی برداشت کرتیں۔وہ یہ پسند نہیں کرتی تھیں کہ اُن کی وجہ سے کسی کو تکلیف ہو۔آخری بیماری میں اپنی بیٹی کے پاس مقیم تھیں۔کمزوری حد سے زیادہ تھی مگر نظر بالکل ٹھیک تھی ہنتی بھی صحیح تھیں اور حافظہ سلامت بلکہ قابل رشک تھا۔وفات سے پہلے غلام فاطمہ بیگم صاحبہ نے خواب دیکھا کہ ان کے شوہر گھوڑا گاڑی میں بیٹھ کر انہیں لینے آئے ہیں مگر انہوں نے جانے سے انکار کر دیا تو والد صاحب نے کہا کہ منگل کے دن لینے آؤں گا۔یہ خواب اسی طرح پورا ہوا منگل کے دن 11 اگست 1982 ء کو ان کا انتقال ہوا انا للہ وانا الیہ راجعون۔ان کی تدفین بہشتی مقبرہ میں ہوئی۔دونوں نے اپنا وصیت کا حصہ اپنی صحت مند زندگی میں ادا کر دیا تھا۔