غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 57
57 اِنَّ بَعْضَ الظَّنِّ إِثْمٌ وَلَا تَجَسَّسُوا وَلَا يَغْتَبْ بَّعْضُكُمْ بَعْضًا أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتًا فَكَرِ هَتُمُوهُ ، وَاتَّقُوالله۔إنَّ اللَّهَ تَوَّابٌ رَّحِيمٌ ط ط ترجمہ: اے لوگو جو ایمان لائے ہوظن سے بکثرت اجتناب کیا کرو یقیناً بعض ظن گناہ ہوتے ہیں اور تجسس نہ کیا کرو اور تم میں سے کوئی کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھائے ؟ پس تم اس سے سخت کراہت کرتے ہو اور اللہ کا تقویٰ اختیار کرو یقینا اللہ تو بہ قبول کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے۔(الحجرات:13) کیا ہم میں سے کوئی شخص یہ پسند کرتا ہے کہ اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھائے تم تو کراہت کرنے لگے ہو۔دیکھو دیکھو تم یہ بات سنتے ہی سخت کراہت محسوس کرتے ہو۔اب کیسی کراہت جبکہ عملاً اپنی زندگی میں ہم نے یہی وطیرہ اختیار کر رکھا ہے جب اپنے بھائی اپنی بہن یعنی مومنوں کے تعلقات کی بات ہو رہی ہے سگے بھائی یا بہن کی بات نہیں ان کے خلاف جب تم باتیں کرتے ہو تو مر دے کا گوشت کھانے والی بات ہے لیکن کراہت کے ساتھ نہیں چسکے لے لے کر۔مثال تو ایک ہی ہے۔ایک جگہ تم چسکے لیتے ایک جگہ تم کراہت محسوس کرتے ہو۔یہ تمہاری زندگی کا تضاد ہے جو درست نہیں۔حالانکہ دونوں کو ایک ہی پیمانے سے جانچنا چاہئے۔اس نصیحت اور مثال کے بعد پھر بھی انسان غیبت کے مزے اُٹھاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ روحانی لحاظ سے بعض باتوں کی کراہت کو جاننے کی صلاحیت نہیں رکھتا وہ مثال سنتا ہے ایمان لے آتا ہے۔اللہ نے فرمایا ٹھیک ہی ہوگا لیکن جہاں تک وہ سوچتا ہے میری ذات کا تعلق ہے مجھے تو مزہ آ رہا ہے۔مجھے بھائی کے گوشت