غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 70
70 کرنے والا ، تو بہ قبول کرنے والا ہوں۔مجھ سے بخشش مانگو تو میں رحم کرتے ہوئے تمہاری طرف متوجہ ہوں گا۔بعض لوگ غیبت اور چغلی کی گہرائی کا علم نہیں رکھتے۔ان کو سمجھ نہیں آتی کہ کیا بات چغلی ہے، غیبت ہے۔بعض اوقات سمجھ نہیں رہے ہوتے کہ یہ چغلی ہے کہ نہیں۔بعض دفعہ باتوں کو مذاق سمجھا جارہا ہوتا ہے لیکن وہ چغلی اور غیبت کے زمرے میں آتی ہے۔اس لئے اس کو میں تھوڑی سی وضاحت سے کھولتا ہوں۔علامہ آلوى ولا يغتب بعضكم بعضا کی تفسیر کرتے ہوئے تحریر فرماتے ہیں:- اس کا مطلب یہ ہے کہ تم میں سے کوئی شخص دوسرے افراد سے ایسی بات نہ کرے جو وہ اپنے بارے میں اپنی غیر موجودگی میں کئے جانے کو نا پسند کرتا ہے۔۔۔اور جو چیز وہ نا پسند کرے اس سے مراد عمومی طور پر یہ ہوگی کہ وہ باتیں اس کے دین کے بارے میں یا اس کی دنیا کے بارے میں کی جائیں، اس کی دنیاوی حالت کے بارے میں کی جائیں۔اس کے مال یعنی امیری غریبی کے بارے میں کی جائیں۔یا اس کی شکل وصورت کے بارہ میں کی جائیں، یا اس کے اخلاق کے بارے میں کی جائیں ، یا اس کی اولاد کے بارے میں کی جائیں، یا اس کی بیوی کے بارے میں کی جائیں، یا اس کے غلاموں اور خادموں کے بارہ میں کی جائیں، یا اس کے لباس کے بارہ میں اور 66 اس کے متعلقات کے بارہ میں ہوں۔“ (روح المعانی) جو بات اپنے لئے پسند نہ ہو وہ اپنے بھائی کیلئے بھی پسند نہ کریں: پھر حضرت خلیفتہ اسیح الخامس ایدہ اللہ بنصرہ العزیز نے فرمایا یہ ساری باتیں