غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 58
58 والی کراہت ذرا اس میں محسوس نہیں ہو رہی۔جس کا مطلب ہے اس کا تناظر بدل گیا ہے وہ جس پہلو اور جس زاویے سے چیزوں کو دیکھ رہا ہے وہ خدا کا پہلو نہیں خدا کا زاویہ نہیں ہے۔غیبت جھوٹی بات کو نہیں کہتے : دو طرح سے غیبت کا احتمال ہے۔ایک بد نیتی کے ساتھ حملہ کرنے کی خاطر جھوٹی بات کرنا۔ایک سچی بات کو بدنیتی سے دشمنی کے نتیجہ میں پھیلانا۔جو جھوٹی بات ہے اس کے دو پہلو ہیں ایک ظن ہے۔ظن کے پردے میں شک کا فائدہ اپنے لئے اُٹھاتے ہوئے کہ شائد سچ ہو اس لئے میں جھوٹ نہیں بول رہا یہ حصہ ہے جو زیادہ غیبت سے تعلق رکھتا ہے جو واضح جھوٹ بولا جا رہا ہے۔اس کو غیبت نہیں کہتے اس کا کچھ اور نام ہے۔حضرت ابو ہریرہ بیان کرتے ہیں۔یہ روایت مسلم کتاب البر میں درج ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا تمہیں معلوم ہے کہ غیبت کیا ہے۔صحابہ رضوان اللہ علیہم نے عرض کیا۔اللہ اور اس کا رسول ہی بہتر جانتے ہیں۔آپ نے فرمایا اپنے بھائی کا اس کے پیچھے اس رنگ میں ذکر کرنا جسے وہ پسند نہیں کرتا۔عرض کیا گیا اگر وہ بات جو کہی گئی ہے وہ سچ ہو اور میرے بھائی میں موجود ہو تب بھی یہ غیبت ہوگی۔آپ نے فرمایا اگر وہ عیب اس میں پایا جاتا ہے جس کا تو نے اس کی پیٹھ پیچھے ذکر کیا ہے تو یہ غیبت ہے اور اگر وہ بات جو تو نے کہی ہے وہ اس میں پائی نہیں جاتی تو یہ بہتان ہے۔جو اس سے بھی بڑا گناہ ہے۔بہتان تراشی ایک معصوم پر تو ایسا سخت گناہ ہے کہ قرآن کریم نے اس کی بہت سخت سزا بیان فرمائی ہے۔اللہ تعالیٰ کی شدید ناراضگی کا اظہار فرمایا ہے۔تو دونوں صورتوں میں جواز کوئی نہیں رہتا اور سچ ہے تو غیبت ہے اگر جھوٹ