غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 54
54 حضرت خلیفہ سیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے ارشادات اے ایمان والو! اندازے لگانے سے اجتناب کرو : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :- اے ایمان والو! اندازے لگانے سے اجتناب کیا کرو۔اور بہت زیادہ عادت جو ہے تخمینوں کی کہ یہ ہوا ہوگا اور یہ ہوا ہوگا۔یہ ایک ایسی مہلک عادت ہے کہ ان اندازوں میں سے یقیناً بعض گناہ ہوتے ہیں۔پس تم ایک ایسے میدان میں پھرتے ہو جس میں خطر ناک گڑھے ہیں یا جنگل کے درندے ہیں تم سمجھتے ہو کہ تم دیکھ بھال کر قدم اُٹھا رہے ہو مگر جو ایسے خطرے مول لیتا ہے۔یقیناً اس کا پاؤں کہیں نہ کہیں رپٹ جاتا ہے غلطی سے کسی گڑھے میں پڑ جاتا ہے یا کسی درندے کے چھپنے کی جگہ کے قریب سے گزرتا ہے اور اسے حملے کی دعوت دیتا ہے تو مراد یہی ہے کہ ہر طن گناہ نہیں ہے۔یہ درست ہے بعض ظن جو درست ہوں حقیقت پر مبنی ہوں وہ خدا کے نزدیک گناہ نہیں لیکن ظن کرنے کی عادت خطر ناک ہے اور اس کے نتیجہ میں ہرگز بعید نہیں کہ تم سے بڑے گناہ سرزد ہوں۔دوسری بات یہ فرمائی کہ تجسس بھی نہ کیا کرو۔ظن کا جو تعلق ہے۔وہ تجسس سے بہت گہرا ہے۔جب انسان کو یہ شوق ہو کہ کسی کی کوئی کمزوری معلوم کرے تو اس وقت جوطن ہیں وہ زیادہ گناہ کے قریب ہوتے ہیں کیونکہ انسان اپنے بھائی یا بہن