غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 42
42 اور اتنا بڑا عیب ہے کہ قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے بعض لوگ اسی وجہ سے جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ایک دفعہ رسول کریم علی کہیں جا رہے تھے۔کہ راستہ میں دو قبریں آئیں۔آپ وہاں ٹھہر گئے اور فرمایا خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ ان قبروں کے مردے ایسے چھوٹے چھوٹے گناہوں کی وجہ سے جہنم میں پڑے ہوئے ہیں کہ جن سے بآسانی بچ سکتے تھے لیکن بچے نہیں۔ان میں سے ایک تو پیشاب کے چھینٹوں سے اپنے آپ کو نہیں بچاتا تھا اور دوسرا چغلی کرتا تھا۔تو چغلی بہت بڑا عیب ہے۔اس میں ہرگز مبتلا نہیں ہونا چاہئے اگر تمہارے سامنے کوئی کسی کے متعلق برا کلمہ کہے تو اُسے روک دو اور کہہ دو ہمیں نہ سناؤ بلکہ جس کا عیب ہے اُس کو جا کر سناؤ پھر اگر کوئی بات سن لو جس کے متعلق ہو اُس کو جا کر نہ سناؤ تا کہ فسادنہ ہو۔اسی طرح کسی کی غیبت بھی نہیں کرنی چاہئے۔کیا اپنے نقص کم ہوتے ہیں کہ دوسروں کے نقص بیان کرنے شروع کر دیئے جاتے ہیں۔تمہیں چاہئے کہ دوسروں کے عیب نکالنے کی بجائے اپنے عیب نکالو تا کہ تمہیں کچھ فائدہ بھی ہو۔دوسروں کے عیب نکالنے سے سوائے گناہ کے کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی فرماتے ہیں :- اوڑھنی والیوں کے پھول صفحہ 44) میں تحریک جدید کے تمام کارکنوں اور خدام الاحمدیہ کو توجہ دلاتا ہوں کہ وہ نوجوانوں میں ان باتوں کو پیدا کرنے کی کوششیں کریں۔سپرنٹنڈنٹ کو چاہئے کہ وہ بچوں کے کانوں میں یہ باتیں بار بار ڈالیں اور ماں باپ کو چاہئے کہ اپنی اولا د کو ان باتوں پر پختگی کے ساتھ قائم کریں اور کوشش کریں کہ ان میں جھوٹ کی عادت نہ ہو۔غیبت کی عادت نہ ہو۔چغل خوری کی عادت نہ ہو۔ظلم کی عادت نہ ہو۔دھوکہ اور فریب کی عادت نہ ہو۔غرض جس قد را خلاق ہیں وہ اُن میں پیدا ہو جائیں اور جس