غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 71
71 ایسی ہیں کہ اگر کسی کے پیچھے کی جائیں تو وہ ناپسند کرتا ہے اب دیکھ لیں کہ اکثر ایسی مجلسوں کا محور یہی باتیں ہوتی ہیں۔دوسرے کے بارہ میں تو کر رہے ہوتے ہیں لیکن اپنے بارہ میں کی جائیں تو نا پسند کرتے ہیں اور پھر جب باتیں ہو رہی ہوتی ہیں۔تو ایسے بے لاگ تبصرے ہو رہے ہوتے ہیں۔جیسا کہ میں نے کہا کہ اگر ان کے بارہ میں یہ پتہ لگ جائیں کہ فلاں فلاں مجلس میں اُن کے بارہ میں بھی ایسی باتیں ہوئی ہیں تو برا لگتا ہے، برداشت نہیں کر سکتے ، فوراً مرنے مارنے پر آمادہ ہو جاتے ہیں۔اس لئے جو باتیں وہ اپنے لئے پسند نہیں کرتے ، وہ اپنے بھائی کے لئے بھی پسند نہ کریں۔جن باتوں کا ذکر اپنے لئے مناسب نہیں سمجھتے کہ مجلسوں میں ہوں، اپنے بھائی کے لئے بھی وہی پسند کریں کہ اس کا ذکر بھی اس طرح مجلسوں میں نہ ہو۔عارضی مزے کے لئے اپنی جنت کو ضائع مت کریں: فرمایا اب بعض لوگ اس لئے تجسس کر رہے ہوتے ہیں۔مثلاً عمومی زندگی میں مزے لیتے ہیں۔دفتروں میں کام کرنے والے ساتھ کام کرنے والے اپنے ساتھی کے بارہ میں ، یا دوسری کام کی جگہ کارخانوں وغیرہ میں کام کرنے والے، اپنے ساتھیوں کے بارہ میں کہ اس کی کوئی کمزوری نظر آئے اور اس کمزوری کو پکڑیں اور افسروں تک پہنچائیں۔تا کہ ہم خود افسروں کی نظر میں ان کے خاص آدمی ٹھہریں۔ان کے منظور نظر ہو جائیں۔یا بعضوں کو یونہی بلا وجہ عادت ہوتی ہے۔کسی سے بلا وجہ کا بیر ہو جاتا ہے اور پھر وہ اس کی برائیاں تلاش کرنے لگ جاتے ہیں تو یا درکھنا چاہئے کہ ایسے لوگوں کے بارہ میں آنحضرت ﷺ نے فرمایا ایسے لوگوں کا کبھی بھی جنت میں دخل نہیں ہوگا ، ایسے لوگ کبھی بھی جنت میں نہیں جائیں گے۔تو کون عقلمند آدمی ہے جو ایک عارضی مزے کے لئے، دنیاوی چیز کے لئے ، ذراسی باتوں کا مزہ لینے کے لئے ،