غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 56
56 ہے وہ یقینی ہو یا غیر یقینی ہو وہ اسے آگے مجالس میں بیان کر کے اس کے چسکے لیتے ہیں۔یہ پورا نفسیاتی سفر ہے جو غیبت کرنے والا اختیار کرتا ہے جس کو قرآن کریم نے سلسلہ بہ سلسلہ اسی طرح بیان فرمایا ہے۔جس طرح انسانی فطرت میں یہ بات پائی جاتی ہے لیکن غیبت کی صرف یہ وجہ نہیں ہے۔یہ مراد نہیں کہ اس کے سوا اور کوئی غیبت نہیں ہے۔غیبت بغیر تجسس کے بھی پیدا ہوتی ہے۔غیبت ایک شخص کی بدی کو جو کھل کر سامنے آئی ہے اور تجس کے نتیجہ میں نہیں اس کو نفرت کی نظر سے دیکھتے ہوئے اس میں دُور کرنے کی بجائے ان لوگوں کو پہچان کر جو اس کو سن کر اس شخص سے اور دور ہٹ جائیں گے اور اس کی اس شخص سے دشمنی میں اس کے طرفدار ہو جائیں گے۔یہ نیت بھی ہوتی ہے اور بعض دفعہ حقائق پر مبنی غیبتیں بھی کی جاتی ہیں اور ہر نیت کا ٹیڑھا ہونا لازم ہے ورنہ گناہ نہیں۔برائی کی نیت غیبت کا لازمی حصہ ہے: اس نیت سے خواہ برائی کی تلاش کی جائے یا برائی اتفاقاً نظر آ جائے اور پھر اس نیت سے ان باتوں کو دوسروں کے سامنے پیش کیا جائے کہ جس کے متعلق بیان کیا جا رہا ہے۔اس پر بیان کرنے والے کو ایک قسم کی فوقیت مل جائے کہ دیکھو میں بلند ہوں اس بات سے اور نیت یہ ہو کہ دیکھو یہ آدمی کیسا ذلیل ہے اور گھٹیا ہے اور اس کے ساتھ اس بات کا خوف بھی دامن گیر ہو کہ یہ بات اس شخص تک نہ پہنچ جائے یہ خوف دامنگیر ہونا یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ چھپ کر حملہ کرنا چاہتا ہے۔وہ جب موجود نہیں پیچھے سے حملہ کرنا چاہتا ہے کہ جس کا وہ جواب نہ دے سکے اگر یہ نیت ہو تو یہ بہت بڑا گناہ ہے اور اس کی مثال دیتے ہوئے قرآن کریم بیان فرماتا ہے۔يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اجْتَنِبُوا كَثِيرًا مِّنَ الظَّن