غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 55
55 میں بدی ڈھونڈ رہا ہوتا ہے۔اور تجسس کی عادت اگر ظن کی عادت کے ساتھ مل جائے تو بہت بڑا احتمال پیدا ہو جاتا ہے کہ یہ شخص گنہگار ہوگا۔پس اس مضمون کو آگے بڑھاتے ہوئے فرمایا اور کوئی تم میں سے کسی دوسرے شخص کی غیو بیت میں غیبت نہ کرے۔یعنی اس کی غیوبیت میں اس کی عدم موجودگی میں اس پر تبصرے نہ کیا کرے۔نیت کرنے والے میں تجسس کا مادہ ہوتا ہے: تجس کا مطلب ہے کہ اسے شوق ہے کچھ معلوم کرنے کا۔اسی لئے بلا وجہ ظن نہیں کر رہا یونہی اتفاقاظن نہیں کر رہا بلکہ اس کا ظن کسی خاص مقصد کی تلاش میں ہے اور ایسے موقع پر وہ نتیجہ نکالنا جو غلط ہے اور محض اپنے تجسس کے شوق میں اس نے نکالا ہے یہ ایک طبعی بات ہے ایسا احتمال بہت بڑھ جاتا ہے تیسری صورت میں اگر تجسس کرتا ہے تو کیوں کرتا ہے۔بنیادی طور پر اس کو اپنے بھائی یا بہن سے کوئی دبی ہوئی مخفی نفرت ہوتی ہے۔وہ پسند نہیں ہوتا اور غیبت اسی کی کی جاتی ہے جو پسند نہ ہو کبھی آپ یہ نہیں دیکھیں گے کہ ماں باپ بیٹھ کر بچوں کی غیبت کر رہے ہوں یا بچے بیٹھ کر ماں باپ کی غیبت کر رہے ہیں۔اگر ایسا ہو تو بنیادی طور پر ان تعلقات کے نظام میں کوئی ایسا رخنہ ہے جسے پاگل پن کہا جاسکتا ہے۔مگر غیبت اور کسی شخص سے پرخاش رکھنا کوئی اس کے متعلق حسد کا پیدا ہونا، اس قسم کے محرکات ہیں جو تجسس کی عادت پہلے ڈالتے ہیں اور پھر تجسس، جب ان کے سامنے کوئی تصورات پیش کرتا ہے حقائق نہیں بلکہ وہ ظن جو ان کی عادت میں داخل ہے۔تجسس کے نتیجے میں یہ اندازے لگاتا ہے کہ ہم یہاں تک تو پہنچ گئے ہیں اندر کمرے میں جا کر تو نہیں دیکھا مگر صاف پتہ لگتا ہے کہ یہ ہوا ہوگا اور چونکہ بدنیتی سے ہی اس سفر کا آغاز ہے اس لئے جو بھی ماحصل