غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 40
40 پیدا ہوتی ہے۔جیسے فرمایا اللہ کریم نے وَلَا يَغْتَبْ بَعْضُكُمْ بَعْضاً غرض خوب یاد رکھو سوء ظن سے تجسس اور تجسس سے غیبت کی عادت شروع ہوتی ہے اور چونکہ آج کل رمضان ہے (ماہ اکتوبر 1907ء کا یہ واقعہ ہے درس کے دوران ) فرمایا کہ تم لوگوں میں بہتوں کے روزے ہوں گے اس لئے یہ بات میں نے روزہ پر بیان کی ہے کہ ایک شخص روزہ بھی رکھتا ہے اور غیبت بھی کرتا ہے اور تجسس اور نکتہ چینیوں میں مشغول رہتا ہے۔تو وہ اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھاتا ہے جیسے فرمایا:- أَيُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ يَأْكُلَ لَحْمَ أَخِيهِ مَيْتاً؟ فَكَرِهْتُمُوهُ اب جو غیبت کرتا ہے وہ روزہ کیا رکھتا ہے وہ تو گوشت کے کباب کھاتا ہے اور کباب بھی اپنے مردہ بھائی کے گوشت کے۔اور یہ بالکل سچی بات ہے کہ غیبت کرنے والا حقیقت میں ہی ایسا بد آدمی ہوتا ہے جو اپنے مردہ بھائی کے کباب کھاتا ہے مگر یہ کباب ہر ایک آدمی دیکھ نہیں سکتا۔ایک صوفی نے کشفی طور پر دیکھا کہ ایک شخص نے کسی کی غیبت کی تب اس سے قے کرائی گئی تو اندر سے بوٹیاں نکلیں جن سے بو بھی آتی تھی۔یا درکھو! یہ کہانیاں نہیں یہ واقعات ہیں جو لوگ بدظنیاں کرتے ہیں جب تک اپنی نسبت بدظنیاں نہیں سن لیتے نہیں مرتے۔اس لئے میں تمہیں نصیحت کرتا ہوں اور درد دل سے کہتا ہوں کہ غیبتوں کو چھوڑ دو جو دوسروں پر نکتہ چینیاں اور غیبتیں کرتے ہیں اللہ کریم انہیں پسند نہیں کرتا۔بدصحبتوں سے بکلی کنارہ کش ہو جاؤ۔ظن کے قریب بھی جانے لگو تو اس سے بچ جاؤ۔کیونکہ اس سے تجسس پیدا ہو گا۔تجسس سے غیبت تک پہنچ جاؤ گے۔یہ ایک بڑی بد اخلاقی ہے اور مردار کھانے کی مانند ہے۔(الحام 31 اکتوبر 1907 ، صفحہ 8-9، حقائق الفرقان جلد 4 صفحہ 6-7)