غیبت ۔ ایک بدترین گناہ

by Other Authors

Page 39 of 82

غیبت ۔ ایک بدترین گناہ — Page 39

39 صحابہ نے پوچھا کہ کسی میں وہ عیب واقعی ہو تو اس کا تذکرہ تو برا نہ ہوگا۔نبی کریم نے فرمایا یہی تو غیبت ہے اگر وہ عیب واقعی نہیں تو اس کا نام بہتان ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جابجا اپنی عبودیت سکھائی ہے۔پھر سچ ہو غیبت نہ ہو تو اس کے ساتھ یہ بھی کہا کہ مجاز بولومگر ایک دو مجاز بھی اجازت نہیں۔مثلاً أَنْبَتَ الربيع الْبَقَلَ (بہار نے سبزی اُگائی ) بول سکتے ہیں مگر مُطِرُنَا بِنَوْءٍ كَذَا بولنا منع ہے۔حالانکہ یہ صحیح ہے کہ جب برج آبی میں چاند چلا جاتا ہے تو بارش ہوتی ہے مگر حکم الہی آگیا کہ ایسا کہنا چھوڑ دو تو چھوڑنا پڑا اسی طرح جانوروں کے کھانے کے متعلق ارشاد فرمایا کہ ہرنی بھی بے شک بکری ہے اور نیل گائے بھی گائے ہے۔حالت احرام میں شکار نہ کر و وجہ سمجھ نہ آئے تو عام مومن یہی سمجھ لیں۔اِنَّ اللَّهَ يَحْكُمُ مَا يُرِيدُ اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔(ضمیمه اخبارالبدر قادیان 5 /اگست 1909 ، حقائق الفرقان جلد 2 صفحہ 73-74) پھر ایک بار ماہِ رمضان میں درس کے دوران حضرت خلیفتہ اسیح الاول نے فرمایا:- روزے کی حالت میں غیبت کرنے والا گو یا مردہ بھائی کے گوشت کے کباب کھا رہا ہوتا ہے۔سورۃ الحجرات آیت 13 کی تشریح فرماتے ہوئے حضرت خلیفہ اسی الاول نے وضاحت فرمائی۔تجسس نہ کرو تجسس کی عادت بدظنی سے پیدا ہوتی ہے۔جب انسان کسی کی نسبت سوء ظن کی وجہ سے ایک خراب رائے قائم کر لیتا ہے تو پھر کوشش کرتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس کے کچھ عیب مل جائیں تو پھر عیب جوئی کی کوشش کرتا ہے اور اسی جستجو میں مستغرق رہتا ہے اور یہ خیال کر کے کہ اس کی نسبت میں نے جو یہ خیال ظاہر کیا ہے اگر کوئی پوچھے تو پھر اس کا کیا جواب دوں گا اپنی بدظنی کو پورا کرنے کے لئے تجسس کرتا ہے اور پھر تجس سے غیبت