غلبہء حق — Page 295
۲۹۵ جواب: اگر بنیادی کا وہی مفہوم ہے جو ہمارے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یا ہے تب یہ اختلافات بنیادی نہیں ہیں۔سوال اگر لفظ بنیادی عام معنوں میں لیا جائے تو پھر ؟ جواب : عام معنوں میں اس کا مطلب اہم ہے۔لیکن اس مفہوم کے لحاظ سے بھی اختلاف بنیاد ی نہیں بلکہ فروعی ہیں۔اس پر فاروقی صاحب لکھتے ہیں :- مگر میاں محمود احمد صاحب نے ایک دفعہ اس عبارت کے شائع کرنے کی اجازت دی۔ردیکھوا اخبار الفضل (۲۱ اگست ۱۹۱۶م) ورنہ حضرت مسیح موعود نے فرمایا کہ ان دعامتہ المسلمین) کا اسلام اور ہے اور ہمارا اور ان کا خدا اور ہے اور ہمارا اور ہمارا حج اور ہے اور ان کا حج اور اس طرح ان سے ہر بات میں اختلاف ہے۔عجیب بات ہے کہ جو عبارت اس جگہ بصورت اعتراض فاروقی صاحب نے الفضل سے نقل کی ہے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ انکوائری کمیشن کے سامنے خود اس کی تشریح فرما چکے ہیں عدالت میں ہی عبارت آپ کے سامنے پیش کر کے پوچھا گیا کیا یہ صحیح ہے جس کا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یہ جواب دیا ؟ اس وقت جب یہ عبارت شائع ہوئی تھی میرا کوئی ڈائری نویس نہیں تھا اس لیے میں یقین سے نہیں کر سکتا کہ میری بات کو صحیح طور پر رپورٹ کیا گیا۔ہے یا نہیں تاہم اس کا مجازی رنگ میں مطلب لینا چاہیئے میرے کہنے کا مطلب یہ تھا کہ ہم زیادہ خلوص سے عمل کرتے ہیں ؟