غلبہء حق — Page 275
۲۷۵ لائحہ عمل بتاتا ہے کہ مجلس شوری کے اس مشورہ کے مطابق فیصلہ کر کے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے آئندہ خلافت کے انتخاب کے موقعہ پر فہیم کے فتنہ کا دروازہ بند کر دیا۔خواہ اس کے نتیجہ میں آپ کا کوئی بٹیا خلیفہ ہو یا جماعت میں سے کوئی اور موزوں بزرگ۔البتہ اگر آپ کا کوئی بیٹیا اہل ہو اور جماعت سے انتخاب کرلے تو پھر بیا ہونے کی وجہ سے اس انتخاب کو کس طرح ناجائز یا کالعدم قرار دیا جا سکتا ہے ؟ کیونکہ کسی خلیفہ کے بیٹے کا انتخاب سے خلیفہ مقرر کیا جانا شرعاً ممنوع نہیں۔افسوس ہے کہ فاروقی صاحب نے رمعاذ اللہ حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی خلافت کو یزید کی خلافت سے تشبیہ دی ہے۔حالانکہ بریلے تو وہ تھا جیسے اس کے باپ نے اپنی زندگی میں ولی عہد مقرر کیا تھا اور اس کے حق میں لوگوں سے اپنی زندگی میں بیعت لی تھی۔حضرت خلیفہ آسیح الثانی رضی آ عنہ نے تو یہ طریق اختیار نہیں کیا بلکہ خلیفہ کے انتخاب کا معاملہ آپ نے فقہائے اسلام کے بیان کردہ طریق کے مطابق ارباب حل و عقد کے فیصلہ پر چھوڑا ہے۔پس فاروقی صاحب کا آپ کی خلافت کو یزید کی خلافت سے تشبیہ دنیا سرا مرنا خدا ترسی اور ظلم عظیم ہے۔اے خدا ! تو ان لوگوں کی آنکھیں کھول - تا یہ اپنے نفع و نقصان کو پہچانا سیکس اور قیامت کی رسوائی سے بچ جائیں۔اللهم آمین !