غلبہء حق — Page 267
کی خلافت کو پاتے ہیں۔اس سے ظاہر ہے کہ دوسرے خلفائے راشدین کی خلافت کے آیت استخلاف کے ماتحت ہونے سے انکار نہیں کیا گیا۔ہاں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے معاً بعد اس کا اکمل اور اتم مصداق حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو قرار دیا ہے پس خلفائے راشدین کے عزل کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔حضرت ابو بکر رض کے افاروقی صاحب نے ذیل کا اقتباس حضرت ابو بکر رض پہلے خطبہ کا مفہوم کے خطبہ سے عزل خلفاء کو جائز ثابت کرنے کے لیے ہوں دیا ہے کہ :۔اسے مسلمانو! میں تمھارے جب امت کا ایک فرد ہوں یمیں صرف شریعت کی پیروی کرنے والا ہوں۔میں اس میں کوئی نئی چیز داخل نہیں کر سکتا۔اگر میں اس شریعت پر سیدھا چلتا رہوں۔تو میری اتباع کرنا اور اگر میں اس سے ادھر اُدھر ہو جاؤں تو تم مجھے سیدھا کر دنیا " ر فتح حق ص۴۳ ۴۴۰ واضح ہو کہ اس اقتباس کا پہلا حقہ سراسر انکسار ہی مبنی ہے اور اس سے اگلا حصہ اس ٹھوس حقیقیت پر مشتمل ہے کہ خلیفہ وقت شریعیت میں کچھ اضافہ نہیں کر سکتا۔لہذا آپ کا یہ فقرہ کہ جب تک میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا رہوں تو تم بھی اطاعت کرتے رہو۔اور اگر میں اللہ اور رسول کی نافرمانی کروں تو تم پر میری کوئی اطاعت نہیں صرف یہ تبانے کے لیے کہ میں بھی اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے تابع ہوں اور انہی کے احکام میں تم پر میری اطاعت واجب ہے۔