غلبہء حق — Page 215
۲۱۵ اس فتنہ کے متعلق یہ بتاتا ہے کہ یہ خاص فتنہ یہاں پہلے سے موجود ہے نہیں حضرت اقدس کے فرزند صاحب زادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کے وجود سے اس فتنہ کا کوئی تعلق نہیں ہو سکتا تھا ، بلکہ اس فتنہ سے مراد وہ فتنہ ہے ، جو غیر احمدی علماء نے فتویٰ تکفیر کی صورت میں حضرت مسیح موعود کے خلاف اس الہام کے نازل ہونے کے بعد کھڑا کیا۔فاروقی صاحب نے الفتنة ههنا کا جو ترجمہ کیا ہے کہ فتنہ یہاں پہلے سے موجود ہے۔یہ سراسر غلط ہے اور پھر اس کی یہ تشریح کہ فتنہ پرداز لڑکا پہلے پیدا ہو گا دیدہ دانستہ غلط بیانی ہے۔پس ان کا ترجمہ بھی غلط ہے اور نسہ بیج بھی غلط۔براہین احمدیہ حصہ پنجم ص میں حضرت اقدس نے اس الہام سے پہلے توٹے تکفیر والا العام تحریر فرمایا ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :- " إِذ يَمْكُرُبِكَ الَّذِي كَفَرَ أَوْ قِدلي يَا هَامَانُ تَبَّتْ يَدَا الي لَهَبٍ وَتَبَ - ما كانَ لَهُ أَنْ يَدْخُلَ الخَائِفًا وَمَا اصَابَكَ مِنَ اللَّهِ الْفِتْنَةٌ هُهُنَا فَاصْبِرُ كَمَا صَبَرَ أُولُو الْعَزْمِ ترجمہ از مسیح موعود : " اس مکر کرنے والے کو یاد کر جو تجھے کافر ٹھہرائے گا اور تیرے دعوی سے منکر ہوگا۔وہ ایک اپنے رفیق سے استفتا پر فتویٰ لے گا تا عوام کو اس سے افروختہ کرے ہلاک ہو گئے دونوں ہا تھ ابی لہب کے جن سے دہ فتویٰ لکھا تھا۔۔۔۔۔۔۔اور وہ بھی ہلاک ہو گیا۔۔۔۔۔اس کو منا سب نہ تھا کہ اس معاملہ میں دخل دیتا۔مگر ڈرتے ڈرتے۔۔۔۔۔۔جو تجھے تکلیف پہنچے گی