غلبہء حق — Page 200
اپنی رقوم کے آدمیوں کے متعلق اچھا گمان کیا اور کیوں نہ یہ کہ دیا کہ یہ توکلا بہتان ہے۔" اسی واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے خدا تعالیٰ فرماتا ہے۔إِذْ تَلْقُونَهُ بِالْسِنَتِكُمْ وَتَقُولُونَ بِأَفْوَاهِم مَا لَيْسَ لَكُمْ بِهِ عِلْمٌ وَتَحْسَبُونَهُ هَيْنَا وَهُوَ عِنْدَ اللَّهِ عَظِيمُ ، وَلَوْلَا إِذْ سَمِعْتُمُوهُ قلتُه مَا يَكُونُ لَنَا اَنْ نَتَكَلَّمَ بِهَذَاتٌ ستانكَ هذَا بُهْتَانُ عَظِيمه نور آیت ترجمہ اس وجہ سے کہ تم اس بہتان کو ایک دوسرے سے سیکھنے لگے اور اپنے مونہوں سے ایسی بات کہتے تھے جس کا تمھیں علم نہ تھا اور تم اسے معمولی بات سمجھتے تھے حالانکہ وہ اللہ کے نزدیک بڑی بات تھی۔ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے وہ بہتان سنا تو تم نے کہہ دیا کہ یہ ہمارا کام نہیں ہے کہ ہم اس کے متعلق بات کریں اے خدا تو ہر عیب سے پاک ہے یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے " اب ہم بھی اس ارشاد ربانی کے ماتحت فاروقی صاحب کے ناپاک الزام کے اعادہ پر الٹی ہدایت کے مطابق انھیں یہ کہتے ہیں۔سُبحَانَكَ هذا بُهْتَان عَظِيم۔ان آیات کے بعد اللہ تعالیٰ یہ نصیحت فرماتا ہے :- يَعِظُكُمُ اللهُ أَن تَعُودُدُ المِثْلِهِ اَبَدا ان كُنتُمْ مُؤْمِنِينَ (نور آیت 1 توجہ ، خدا تمہیں ایسی بات کو آئندہ کسی سلمان کی نسبت ) دوبارہ کرنے سے رواتا ہے اگر تم مومن ہو"