غلبہء حق — Page 128
اس کے مقابلے میں مجاز قرار پاتی ہے۔حضرت اقدس نے اپنی کتابوں میں حقیقی نبوت کا لفظ بعض جگہ تشریعی اور مستقل بنی کے لیے استعمال فرمایا ہے اور بعض جگہ صرف تشریعی بنی کے لیے۔اس لیے ان اصطلاحوں میں ہم حضرت مرزا صاحب کو حقیقی بنی قرار نہیں لیتے ہاں ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی عقلیت کا ملہ کے لحاظ سے آپ کا مل ظلی نبی ہیں اور کا من ظلی نبی ہونا بھی اپنی ذات میں ایک حقیقت ہے اور نبوت مطلقہ کی ایک قسم۔دیکھئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں۔(1) ” ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم روحانیت قائم کرنے کے لحاظ سے آدم ثانی تھے بلکہ حقیقی آدم وہی تھے۔جن کے ذریعہ اور طفیل سے تمام انسانی فضائل کمال کو پہنچے " دیکر سیالکوٹ مٹ) (۲) وہ کتابیں دتورات - زبور - انجیل - ناقل حقیقی کتابیں نہیں تھیں۔بلکہ وہ صرف چند روزہ کا روائی تختی حقیقی کتاب دنیا میں ایک ہی آئی ریعنی قرآن مجید ناقل جو ہمیشہ کے لیے انسانوں کی بھلائی کے لیے " آئی۔" رفتن الرحمن مک ) فاروقی صاحب بتائیے کیا آدم علیہ السلام اپنی ذات میں حقیقی آدم نہ تھے جن سے نسل انسانی چلی ؟ اور پھر یہ بھی فرمائیے کہ جب تو ریت ، جھیل زبور حقیقی کتابیں نہ تھیں تو کیا ان کے لانے والے نبی اپنی ذات میں بھی حقیقی بنی نہیں تھے ؟ حالا نکہ آدم بھی حقیقی نبی تھے اور انجیل۔تورات۔