غلبہء حق — Page 127
۱۲۷ دیا گیا ہے۔اور اس وقت یہ الہام بھی آپ پر نازل ہوگیا کہ میم محمدی مسیح موسوی سے افضل ہے ؟ جس سے آپ پر اس حقیقت کا انکشاف ہو گیا کہ آپ کی شان نبوت محدث کی شان نبوت سے بلند تر ہے اور جن معنی میں آپ بنی قرار دیئے گئے ہیں اُن معنی میں آپ کے زمانہ تک اُمت میں کوئی مجدد اور محدث علی وجہ الکمال فلمی نبی یا اتنی نبی قرار نہیں دیا گیا۔پس جس طرح آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم پر اپنی شان نبوت کے بارے میں تدریجاً انکشاف ہوا ہے یعنی ایک عرصہ پہلے نبوت اور رسالت کا الہام ہوئے بغیر تبلیغ کا ارتا ہوا اور پھر نبوت اور رسالت کا انکشاف ہوا اور پھر آخر میں ختم نبوت کی نشان کا انکشاف۔اسی طرح حضرت اقدس پر پہلے مامور محدث ہونے یعنی بنوت جزویہ کے حامل ہونے کا انکشاف ہوا اور بعد میں آپ پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی کامل طلبیت میں شان نبوت کے پورے طور پر پائے جانے کا انکشاف ہو گیا تو آپ نے یہ اعلان فرما دیا کہ آپ کو صریح طور پر نبی کا خطاب دیا گیا۔ہے اور آپ اپنی تمام شان نہیں حضرت مسیح بن مریم علیہ السلام سے بہت بڑھ کر ہیں۔پس مسیح موعود کے لیے نبی کے ساتھ امتی اور علی کا لفظ صرف ظاہر کرتا ہے کہ آپ نے مقام نبوت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے بعد اور آپ کے افاضہ روحانیہ کے واسطہ سے حاصل کیا ہے اور یہ مقام صرف خدا تعالٰی کی ایک موهبت ہے۔حقیقی اور مجازی میں بتا چکا ہوں کہ حقیقی کا لفظ ایک اضافی اور کی حقیقت نسبتی امر ہے۔ایک چیز اپنی ذات میں ایک حقیقت ہوتی ہے ایک دوسری حقیقت کی نسبت سے وہ حقیقت نہیں رہتی بلکہ