غلبہء حق

by Other Authors

Page 126 of 304

غلبہء حق — Page 126

اور دھوکے باز ٹھہرا سکتا ہے ؟ ہر گز نہیں ! ایسا دہی کہ سکتا ہے جو خود خائر العقل ہو۔حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں یہ رسمی عقیدہ پھیلا ہو ا تھا کہ اِس اُمت میں سے سچ مچ کوئی نبی نہیں آسکتا۔البتہ علماء ربانی یہ مانتے چلے آئے تھے کہ نبوت ایک حد تک محد ثیت کے پیرا یہ میں امتی کو مل سکتی ہے۔اس لیے محدث کا مقام لوگوں کے لیے قابل قبول ہو سکتا تھا اور چونکہ ہر نبی علی وجہ الکمال محدث ضرور ہوتا ہے۔اس لیے خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس سے مامور محدث ہونے کا اعلان کر دیا۔یہ اعلان دراصل اس نبوت کے حقیقہ مساوی تھا جس کا انکشاف حضرت اقدس پر بعد میں ہوا کیونکہ بعد میں آپ کے دعوی کی تفصیلی کیفیت میں اس انکشاف سے کوئی فرق نہیں پڑا۔بلکہ صرف ایک تا دیل کے اختیار کرنے اور ترک کرنے میں فرق پڑا ہے جس کے نتیجہ میں آپ اپنے آپ کو حضرت عیسی علیہ السلام سے اپنی تمام شان میں افضل سمجھنے لگ گئے اور اس کا اعلان فرما دیا نہیں یہ خدا کی حکمت عملی اور مصلحت مسلمان قوم کی بہتری کے لیے تھی کہ شروع میں اس نے آپ سے ایسے رنگ میں اعلان کر دیا کہ جس سے اصل حقیقت بھی قائم رہتی تھی اور وہ دعوئی بھی لوگوں کے اپنے مسلمات کی بنا پر قابل قبول تھا۔جب ایک جماعت نے اس دعوئی کو قبول کر لیا اور اس پر حضرت اقدس کے کاموں اور آپ کی روحانی صحبت سے آپ کی صداقت پورے طور پر کھل گئی اور علی وجہ البصیرت اُن کے لیے یہ قبول کرنا ممکن ہوگیا کہ ایک قسم کی نبوت آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے فیض سے مل سکتی ہے تو خدا تعالیٰ نے حضرت اقدس پیرا نکشان فرما دیا کہ آپ کو صریح طور پر نبی کا خطاب