غلبہء حق — Page 94
۹۴ ہیں۔اور مسیح بن مریم سے اپنی تمام شان میں بہت بڑھ کر ہیں۔آپ نے اپنے متعلق نبی اور رسول کے الفاظ کی وہ تاویلات ترک کر دیں جن کا پہلے ذکر آچکا ہے اور یہ مجھے لیا کہ معروف تعریف نبوت در اصل قابل ترمیم ہے اور ایک اُمتی بھی نبی ہو سکتا ہے گو وہ شریعت جدیدہ نہیں لاتا اور نہ شریعیت سابقہ کے کسی حکم کو منسوخ کرتا ہے۔نبی کے لیے کسی دوسرے نبی کا امتی نہ ہونا ضروری شرط نہیں چنانچہ انشاد کے بعد آپ نے نبوت کی جو تعریف کی وہ یہ ہے :- تعریف نبوت میں ترمیم: "1 "میرے نزدیک نبی اُسی کو کہتے ہیں میں پر خدا تعالیٰ کا کلام قطعی اور یقینی اور بہ کثرت نازل ہو جو غیب پر مشتمل ہو اس لیے خدا نے میرا نام نبی رکھا۔" (تجلیات الهیه م) نبی اُسی کو کہتے ہیں" کے الفاظ سے ظاہر ہے کہ نبی کی یہ تعریف حصر بالفاظ میں کی جا رہی ہے۔یعنی اس تعریف کے علاوہ نبی کی کوئی اور جامع مانع تعریف نہیں ہے۔اس جامع مانع تعریف کے ماتحت آپ نے اپنے آپ کو نبی قرار دیا ہے کیونکہ یہ تعریف آپ پر صادق آتی تھی اس میں نبی کے لیے کسی نبی کا ضروری قرار نہیں دیا۔نیز اسی زمانہ میں تحریر فرماتے ہیں :- جبکہ وہ مکالمہ مخاطبہ اپنی کیفیت اور کمیت کی رو سے کمال درجہ تک پہنچ جائے اور اس میں کوئی کثافت اور کمی باقی نہ ہوا اور کھلے طور پر امور فیصلہ پر مشتمل ہو تو دہی دوسرے لفظوں میں نبوت کے نام سے موسوم ہوتا ہے