غلبہء حق — Page 287
۲۸۷ وا الہ سے شام تک 9 سال کا عرصہ ہوتا ہے جس میں بقول میاں محمود احمد صاحب حضرت مسیح موعود کو اپنی نبوت سمجھ نہیں آئی حالانکہ بقول ان کے اللہ تعالیٰ نے خود ان کو نبی کہا تھا۔۔۔۔۔۔الخر" الجواب: حضرت خلیفہ السیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کا یہی مذہب تھا کہ حضرت میسج موعود علیہ السلام شروع دعوی مسیح موعود سے ہی تو ا ا ء میں ہوا نبی ہیں۔گو آپ لفظ نبی کی تاویل محدث یا جزوی نہی کرتے رہے لیکن اپنے دعوے کی جو کیفیت آپ نے شاہ سے پہلے بیان کی چونکہ وہ در اصل نبوت ہی ہے اس لیے اسی زمانہ میںاپنی محدثیت کی شان سمجھا نے حضرت اقدس نے اس کے آخر میں صاف لکھ دیا کہ :۔ثبوت کے بجز اس کے اور کچھ معنی نہیں کہ امور متذکرہ بالا اس میں پائے جائیں "۔ر توضیح المرام ما پس شام میں بھی حضرت مسیح موعود علیہ اسلام اپنے دعوی کی کیفیت کا نام نبوت ہی رکھتے تھے۔لیکن اپنے تئیں نبی معنی محدث، اس لیے قرار دیتے تھے کہ نی کے لیے آپ کسی دوسرے نبی کا اتنی نہ ہونا ضرور کی شرط سمجھتے تھے اور اپنے آپ کو نبی کے ساتھ امتی بھی پاتے تھے۔لہذا گو آپ اپنے نبی ہونے کی تادیل فرماتے تھے لیکن سوائے امتی نہ ہونے کی شرط کے نبوت کو اپنے وجود میں تحقق بمانتے تھے۔میں اس لحاظ سے حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضا کا مذہب یہی تھا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام شروع دعوی سے ہی سے بنی تھے" (ملاحظہ ہو حقیقہ النبوت ص ) پھر دعولی کی کیفیت کے پیش نظر ہی حضرت خلیفہ ایسیح الثانی نے صاف