غلبہء حق

by Other Authors

Page 194 of 304

غلبہء حق — Page 194

۱۹۴ رہے ہیں۔افسوس کہ حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ کا اپنے جوانی اور بڑھاپے کے ایام کو دن رات خدمت اسلام میں وقف کر دنیا اور علیم اسلام کو غیر اسلامی ممالک میں بلند کرنا تعصب اور بعض کی وجہ سے فاروقی صاحب کی نظر میں نہیں جچتا۔حالانکہ خدمت اسلام کے لیے آپ کی روح میں ایسی تڑپ موجود بھی کہ جب آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا جس کے نتیجہ میں آپ ایک عرصہ تک صاحب فراش رہے تو ابھی آپ کمزور ہی تھے کہ آپ ترجمہ القرآن کے عظیم الشان کام میں لگ گئے اور تھوڑے ہی عرصہ میں آپ نے محنت شاقہ سے تفسیر صغیر کے نام سے بامحاورہ اردو زبان میں ترجمہ القرآن کر کے مع تفسیری نوٹوں کے شائع کرا دیا۔پھر اس کے بعد ایک عرصہ کے لیے آپ کا صاحب فراش ہو جانا حقیقت آپ کو ایک زندہ شہید اسلام ثابت کرتا ہے۔ان ایام میں بھی آپ کی دعائیں در روحانی توجہ جماعت کے ساتھ تھی۔حدیث نبوی میں وارد ہے:۔" عن أبي الدرداء قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلّم وَمَنْ جُمِ وَمَنْ جُرحَ جَرَاجَةٌ في سَبيلِ اللَّهِ خُتِمَ لَهُ بِخَاتَمِ الشُّهَدَاءِ ومَ الْقِيَامَةِ لَوْنُهَا مِثْلَ كونَ الزَّعْفَرَانِ وَ رِيحُهَا مِثْلَ رِيحٍ الْمَسْكِ يَعْرِفُهُ الأَوَّلُونَ وَالْآخِرُونَ يَقُولُونَ فَلَانَ عَلَيْهِ طَابَعُ الشُّهَدَاءِ - رواه احمد ورداة استاده ثقاة - ترغیب ترطيب للمنذری بر حاشیه مشکواة مطبع نظامی کی شام