غلبہء حق — Page 106
1۔4 کو براہ راست ملتی رہی۔عرض حضرت اقدس کی اس تحریر سے صاف ظاہر ہے کہ ایک غلطی کا ازالہ لکھتے وقت حضرت اقدس اسی مو بہت نبوت کے پانے کے لیے جو پہلے انبیاء کو براہ راست ملتی رہی۔اب اتنی نہ ہونے کی شرط ضروری نہیں سمجھتے۔بلکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی کے لیے ایسی مو بہت نبوت جو انبیاء کو براہ راست ملتی رہی۔آیت انعمت علیم کی رو سے اُمت میں موعودہ قرار دیتے ہیں۔تعریف نبوت میں ترمیم اس بات کا مزید ثبوت کہ اس زمانہ میں حضرت کا مزید ثبوت اقدس تعریف نبوت میں ترمیم فرما چکے تھے ، یہ بھی ہے کہ 19ء سے پہلے تو حضرت اقدس نبی کے لیے کم از کم ضروری شرط یہ سمجھتے تھے کہ وہ کسی دوسرے نبی کا امتی نہیں ہوتا مگر انشاء کے آخر میں اور اس کے بعد حضرت اقدس نبی کے لیے اتنی نہ ہونے کی شرط کو ضروری نہیں سمجھتے اور ایک امتی کے حقیقت میں نبی ہو جانے کو قابل اعتراض نہیں جانتے اور اپنے آپ کو در حقیقت نبی سمجھتے تھے۔چنانچہ حضرت اقدس ضمیمہ برا امین احمدیہ حصہ پنجم من ۱۳ میں ایک سائل کا پہلے یہ سوال درج کرتے ہیں :- بعض کہتے ہیں کہ اگر چہ یہ سچ ہے کہ صحیح بخاری اور سلم میں لکھا ہے کہ آنے والا عیسے اسی اُمت میں سے ہو گا لیکن صحیح مسلم میں صریح لفظوں میں اس کا نام نبی اللہ رکھا ہے۔پھر کیوں کہ ہم مان لیں کہ وہ اسی امت میں سے ہوگا یا اس سوال سے ظاہر ہے کہ سائل امنی کا نبی ہو سکتا محال سمجھتا ہے کیونکہ اس کے نزدیک معروف اصطلاح نبوت کے مطابق جو اُمتی ہو وہ نبی نہیں ہوسکتہ