غلبہء حق — Page 87
Ab پس دونوں زیر بحث آیتوں کی تفسیر کا ماحصل یہ ہے کہ عام رسولوں کی اطاعت سے انسان بڑے سے بڑا درجہ صرف صدیقیت کا ہی پا سکتا تھا جو کہ ولایت کا ہی ایک مرتبہ ہے۔لیکن چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاتم النبیین ہیں اس لیے نبی بننے کا شرف صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے متبع اور اتنی ہی کو حاصل ہو سکتا ہے۔اسی لیے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی شان میں تحریر فرمایا :- ہمارا نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس درجہ کا نبی ہے کہ اس کی امت کا ایک فرد نبی ہو سکتا ہے اور علیسی کہلا سکتا ہے حالانکہ وہ امتی ہے۔(ضمیمه برا بین احمدیہ حصہ پنجم ص۱) نیز خاتم النبیین کی تشریح میں تحریر فرمایا کہ : آپ کی بیردی کمالات نبوت بخشتی ہے اور آپ کی توجه روحانی نبی تراش ہے۔یہ قوت قدسیہ کسی اور بنی کو نہیں ملی " (حقیقۃ الوحی حاشیه ) اور یہ بھی تحریر فرمایا کہ :- بجز اس رخاتم النبیین - ناقل) کے کوئی نبی صاحب تم نہیں۔ایک دہی ہے جس کی مہر سے ایسی نبوت بھی مل سکتی ہے جس کے لیے امتی ہونالازمی ہے۔" (حقیقة الوحی مشت) پھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے سورۃ جمعہ کی آیت و آخرین منهم لما يلحقوا بهم کی تفسیر میں اپنے حق میں تحریر فرمایا کہ :