غلبہء حق — Page 86
лу اور خود صدیق شہید <mark>نہی</mark>ں بنیں گے۔بلکہ سب صدیقوں شہیدوں کے ساتھ ہونے سے مراد یہ ہوگی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے نہ صرف یہ کہ صدیق شہید بن سکتے ہیں۔بلکہ وہ سب پچھلے صدیقوں شہیدی کے رنگ میں کامل طور پر رنگین ہو کر ان کے کمالات کے جامع ہو سکتے ہیں۔چونکہ آیت فادائك مع الذين العم الله عليهم من النبيين و الصديقين والشهداء والصالحین میں چاروں گردہ ایک دوسرے پر عطف کے سلسلہ سے وابستہ ہیں۔لہذا معیت کے لحاظ سے سب کا ایک ہی حکم ہوگا یعنی جب صدیقوں شہیدوں۔صالحین کی محبت پانے سے مراد کم از کم ان کے گروہ کا فرد بن جاتا ہے۔تو ال<mark>نبی</mark>ین کی محبت سے مراد کم از کم یہ <mark>امر</mark> ہو گا۔کہ <mark>نبی</mark> کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت سے آپ کا کوئی امتی ا<mark>نبی</mark>اء کے گردہ کا فرد بھی ہو سکتا ہے اور زیادہ سے زیادہ اس کا یہ مفہوم ہو گا آپ کا کوئی امتی ا<mark>نبی</mark>اء کے گروہ کا فرد ہونے کے ساتھ ان کے رنگ میں کا مل طور پر رنگین ہو کر ان سب کے کمالات نبوت کا جامع بھی ہو سکتا ہے۔علامہ راغب نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا ہے الحقه الله بالذين تقدمهم لمن العمر الله عليهم في المنزله والثواب النبي بالنبي والصديق بالصديق والشهيد بالشهيد والصالح بالصالح - اتفية بحر المحيط جلد۳ ما مطبوعہ مصر) ترجمہ۔خدا تعالیٰ اور آں حضرت کی اطاعت کرنے والوں کو خدا نے مرتب اور ثواب میں پہلے انعام یافتہ لوگوں سے ملا دیا ہے۔اس امت کے بنی کو <mark>نبی</mark> سے ملا دیا ہے اور صدیق کو صدیق سے ملا دیا ہے اور شہید کو شہید سے ملا دیا ہے اور صالح کو صالح سے ملا دیا ہے۔