غلبہء حق — Page 85
۸۵ فاروقی صاحب ! آپ نے کہا ہے :- پہلی آیت میں نبی کا ذکر کیا اس لیے انعم کا لفظ تھا۔کیونکہ نبوت موسیبت ہے۔" مگر آپ نے یہ خیال نہیں کیا کہ الحمد اللہ علیہم کے بیان میں اس جگہ صرف نبیوں کا ہی ذکر نہیں۔صدیقوں ، شہید دل اور صالحین کا بھی ذکر ہے اور ان سب کے لیے انعم کا لفظ استعمال ہوا ہے۔پس در اصل یہ سارے مراتب ہی موسیبت ہوئے۔اسی لیے تو اس آیت کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے۔ذالك الفضل من الله " کہ یہ سب مراتب اللہ کا فضل ہیں۔فاروقی صاحب نے جب ساتھ ہونے کے معنی اس آیت میں یہ کیسے ہیں کہ خدا تعالیٰ اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے نبیوں ، صدیقوں شہید دن اور صالحین کے ہمرنگ ہو جاتے ہیں تو صاف ظاہر ہے کہ ان کے نزدیک اس آیت میں محبت زمانی اور مکانی مراد نہیں۔زمانی اور مکانی معیت کے علاوہ ایک معنی مع کے محبت فى المنزلة ہیں۔یعنی مرتبہ میں ساتھ ہونا۔پس اگر فاروقی صاحب مع کے معنی ہمرنگ ہونا کریں تو اس سے مراد بھی مرتبہ میں ساتھ ہونا ہی لی جا سکتی ہے۔یہ نہیں کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کرنے والے صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کے گروہوں میں داخل نہیں ہونگے۔بلکہ ان میں صرف ان کا معمولی سارنگ ہی پایا جائے گا۔کیونکہ دوسری آیت ان الذين امنو بالله ورسله اولئك هم الصديقون والشهداء کے مطابق صدیق۔شہید دوسرے انبیاء پر ایمان لانے والے بھی بن جاتے ہیں تو سید الانبياء فخر المرسلین حضرت محمد مصطفے اصلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا ثمرہ یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ صدیقیوں ، شہیدوں کا معمولی سا رنگ لیں گے