غلبہء حق — Page 75
60 فاروقی صاحب کا پر شبہ باطل ہے کہ اس حدیث میں مذکور عیسی ابن مریم کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا علاتی بھائی قرار دیا ہے اس لیے عیسی بن مریم سے مراد اس جگہ مسیح اسرائیلی ہے جس کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جگہ بنی قرار دیا ہے۔امت محمدیہ کے مسیح موعود کو اس حدیث میں نبی نہیں کہا۔یہ شبہ اس لیے باطل ہے کہ انبیاء کو علاقی بھائی قرار دینے کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حدیث زیر بحث میں عیسی ابن مریم کو اپنا علاقی بھائی قرار نہیں دیا۔بلکہ انا اولى الناس بعیسی ابن مریم کہ کر اسے اپنا روحانی فرزند قرار دیا ہے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے :- النبى اولى بِالْمُؤْمِنِينَ مِنْ اَنفُسِهِمْ وَازْوَاجُهُ أُمَّهَاتُهُمْ - (احزاب )) یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مومنین سے اُن سے تعلق رکھنے والے دوسر آدمیوں کے بالمقابل قریب ترین تعلق ہے اور آپ کی بیویاں مومنوں کی بائیں میں پس جس طرح النبی اولی بالمؤمنین سے یہ مراد ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی امت کے مومنین کے روحانی باپ ہیں اور آپ کی ازواج مومنوں کی ڈھانی مائیں۔اسی طرح حدیث زیر بحث میں مذکور عیسی کے متعلق آنحضرت صلی اللہ علیہ حکم کا یہ فرمانا انا اولی الناس بعیسی ابن مریم اس بات پر نص قطعی ہے کہ یہ عیسی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا امتی ہونے کی وجہ سے آپ کا روحانی فرزند ہے اور ا سے حضرت عیسی علیہ اسلام کے مثیل ہونے کی وجہ سے استعارہ عیسی ابن مریم قرار دیا گیا ہے۔لہذا دوسرے تمام انبیاء کا باہمی تعلق تو اس حدیث میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے علاتی بھائیوں کا سا قرار دیا ہے اور امت محمدیہ میں زل ہونے والے عیسی بن مریم مسیح موعود کا اپنے ساتھ تعلق فرزندی کا بیان