غلبہء حق — Page 70
ضرور سمجھتے ہیں اور ان کا مستقل نبی ہونا توں ہوری فریق کے احمدیوں کو بھی مسلم ہے بلکہ فاروقی صاحب تو اب انہیں تشریعی نبی قرار دینا چاہتے ہیں۔لہذا وہ ذرا سر جھکا کر سوچیں کہ وہ ہمارے خلاف کیا لکھ رہے ہیں ؟ یہ جو کچھ انہوں نے لکھا ہے یہ تو خود ان کے خلاف جاتا ہے۔کیونکہ جب وہ حضرت ہارون علیہ السلام کو تشریعی اور مستقل نبی جانتے ہیں اور اس وجہ سے لانبی بعدی کہنے کی ضرورت بھی انہیں مسلم ہے۔تو ہم لوگ اسی طرح انھیں مستقل بنی جانے کی وجہ اس جگہ لابی بعدی کہنے کی ضرورت تسلیم کرتے ہیں۔تاکہ کوئی شخص حضرت علی رض کو ہارون کے رتبہ پر قرار دیا جانے کی وجہ سے انھیں بقول خالہ وقی صاحب تشریعی نبی اور بقول ہمارے مستقل نبی نہ سمجھ لے۔پس اس حدیث کے الفاظ انہ لا نبی بعدی میں تشریعی نبی اور مستقل نبی کے آنے کی نفی ثابت ہوئی۔حضرت ہارون علیہ السلام امتی نبی تھے ہی نہیں۔کہ حضرت علی رض کے امتی نبی ہونے کا احتمال اور غلط فہمی واقع ہوتی۔صرف مستقل نبی کے ہونے کا ہی احتمال پیدا ہو سکتا تھا جیسے دور کر دیا گیا۔تیسری حدیث | تیسری حدیث فاروقی صاحب نے یہ پیش کی ہے :۔عن ابى هريرة رضى الله عنه ان رسول الله صلى الله عليه وسلم قالَ إِنْ مَثَلى ومَثَلَ الانبياء مِن قَبْلِي كَمَثَلِ رَجُلٍ بَنى بيتًا فَاحْسَنَهُ وَاَجْمَلَهُ الَّا مَوضَعَ لِنَةٍ مِنْ ذَا دِيَة فَجَعَلَ النَّاسُ يَطُوفُونَ بِهِ وَ يَتَعَجَّبُونَ لَهُ وَيَقُولُونَ هَلاَ وُضِعت هذه اللبنة قال فانا اللبنة وانا خاتم " **