غلبہء حق — Page 57
خاتم ال<mark><mark>نبی</mark></mark>ین کے لفظ کے دو ہی معلوم ہیں اول یہ کہ آپ آخری <mark><mark>نبی</mark></mark> ہیں اور دوسرے یہ کہ آپ کی اتباع سے وہ کمالات آئندہ بلا انقطاع ملا کریں گے جو پہلے متفرق <mark><mark>نبی</mark></mark>وں کی وساطت سے ملتے تھے " حنا حضرت مسیح موعود کی تفسیر اس تفسیر کے بالمقابل حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے خاتم ال<mark><mark>نبی</mark></mark>ین کے معنی <mark><mark>نبی</mark></mark>وں کی مہر کی یہ تشریح فرمائی ہے کہ :- اللہ جل شانہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو صاحب خانم بنا یا یعنی آپ کو افاضیہ کمال کے لیے مہر دی جو کسی اور <mark><mark>نبی</mark></mark> کو ہرگز نہیں دی گئی۔اسی وجہ سے آپ کا نام خاتم ال<mark><mark>نبی</mark></mark>ین شھر یعنی آپ کی پیروی کمالات بنوت بخشتی ہے در آپ کی وجہ روحانی <mark><mark>نبی</mark></mark> تراش ہے یہ قوت قدسیہ کسی اور <mark><mark>نبی</mark></mark> کو نہیں ملی " (حقیقة الوحی حاشید مه) ست بچن کی عبارت -1 سے آپ معلوم کر چکے ہیں کہ ا<mark><mark>نبی</mark></mark>اء کی اتباع سے ولی بنتے ہیں۔مگر اس عبارت میں خاتم ال<mark><mark>نبی</mark></mark>ین کا بلند ترین اور ا<mark><mark>نبی</mark></mark>اء میں سے ممتاز ترین مقام بیان کیا گیا ہے جو یہ ہے کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی میں کمالات <mark>نبوت</mark> بھی ملتے ہیں یعنی ولایت اور محدثیت وغیرہ اور آپ کی تو جہ روحانی <mark><mark>نبی</mark></mark> تراش بھی ہے۔یعنی آپ کے فیضان سے آپ کا امتی مقام <mark>نبوت</mark> ” بھی پاسکتا ہے اور حضرت اقدس نے یہ اعلان بھی فرما دیا ہے کہ <mark><mark>نبی</mark></mark> تراش" ہونے کی قوت قدسیہ صرف آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو ہی دی گئی ہے۔اس سے ظاہر ہے کہ خاتم ال<mark><mark>نبی</mark></mark>ین کے فیض سے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے امتی