غلبہء حق

by Other Authors

Page 41 of 304

غلبہء حق — Page 41

3 اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت سرا سر خدا کا فضل ہے یعنی موہت۔البتہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اس مومیت کے لیے شرط تھی۔جیسا کہ اس سے پہلے پیش کردہ ایک غلطی کا ازالہ کی عبارت سے ظاہر ہے کہ :- اس موسبت کے لیے بروز خلیت اور فنا فی الرسول کا دروازہ کھلا ہے۔" پس آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی ظلیت کا ملہ سے جو نبوت آپ کو ملی، اسے آپ موہیت ہی قرار دیتے ہیں۔بے شک حضرت مسیح موعود علیہ السلام آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے اور لینے میں قمر ہی ہیں مگر امت کے لیے آپ شمس بھی۔بچنا نچہ آپ پر الہام نازل ہوا یا شمس يا قمر انت منی دانا منك - اے قمر اور اے شمس تیرا یہ مقام میری طرف ہے اور اب میرا ظہور تیرے ذریعہ ہو گا۔ہے فاروقی صاحب نے اپنے پیش لفظ میں مولف کی دوسری غلط بیانی دوسری خلاف واقعہ بات یہ لکھی ہے کہ مرزا محمود احمد صاحب نے ۱۹۱۴ء میں یہ عقیدہ تراشا تھا کہ حضرت مسیح موعود بنی ہیں اور ان کا منکر کا فر ہے۔مگر خدا تعالے نے اس بیان کے خلاف دافعہ ہونے کا اعتراف خود مولف فتح حق کے قلم سے صداہ پر یوں کرا دیا ہے۔کہ وہ لکھتے ہیں:۔اپریل ائر میں میاں محمد د احمد صاحب نے رسالہ تشجیہ الا ذہان میں ایک مضمون لکھا جس کا عنوان تھا مسلمان وہ ہے جو مرب ماموروں کو مانے۔اس