غلبہء حق

by Other Authors

Page 30 of 304

غلبہء حق — Page 30

اس اقتباس سے ظاہر ہے کہ اخبار پیغام مصلح کے متعلقین نے ۱۹۱۳ء میں اعتراف کیا تھا کہ وہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی اور رسول اور نجات دہندہ مانتے ہیں اور آپ کے درجہ کو گھٹا کہ پیش کرنا موجب سلب ایمان سمجھتے ہیں۔اخبار پیغام مصلح سے تعلق رکھنے والے ہی وہ لوگ ہیں جو حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد صاحب کے مسند خلافت پر سرفراز ہونے کے بعد خلافت ثانیہ کے انکار کے ساتھ ہی کھل کر حضرت میسج موعود علیہ السلام کی نبوت کا انکار کرنے لگے۔مندرجہ بالا اقتباس سے یہ امر اظہر من الشمس ہے کہ جماعت احمدیہ حضرت خلیفہ مسیح الاوّل کے زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو نبی اور رسول مانتی تھی اور اس وقت اسی بارے میں بعض دل میں اختلاف رکھنے والے بھی کھل کر سامنے آنا نہیں چاہتے تھے۔ہمارے اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کا مسئلہ اور آپ کو نبی قرار دینا حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ کی اختراع نہ تھی اور فاروقی صاحب نے یہ غلط بیانی کی ہے کہ آپ نے یہ عقیدہ 9ء میں تراشا۔اء میں بھی پیغام صلح میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی نبوت کے ثبوت میں ایک نظم شائع ہوئی تھی جس کے چند اشعار درج ذیل ہیں سے کیا ختم رسالت نے کمال اپنا دکھایا امت میں ہے دریائے نبوت کو بہایا اس فیض کے ملنے سے موٹے خیر اہم ہم کیا ہرج ہے امت میں نبی بن کے گرم