غلبہء حق

by Other Authors

Page 258 of 304

غلبہء حق — Page 258

۲۵۸ شراء اور شام تک صرف خلافت کا جھگڑا تھا۔کفر د اسلام اور <mark>نبوت</mark> کے مسائل باعث اختلاف نہ تھے۔اس وقت ان لوگوں کے دلوں میں اس خیال نے زور پکڑا کہ ایک شخص کو خلیفہ مان کر اور اس کی اطاعت کا اقرار کر کے ہم سے <mark>غلطی</mark> ہوئی ہے۔اب <mark>کس</mark>ی طرح یہ <mark>غلطی</mark> دور کر دینی چاہیئے۔نا جماعت دوبارہ اس <mark>غلطی</mark> کا از تکاب نہ کرے۔چنانچہ خلافت ثانیہ کے قیام کے وقت ان لوگوں نے حضرت خلیفہ المسیح الاوّل رض کی وصیت سے انحراف کر کے خلافت ثانیہ کا انکار کردیا۔نیز سلسلہ احمدیہ میں خلافت کے جاری رہنے سے بھی انکار کر دیا۔انا للہ وانا اليه راجعون حضرت خلیفہ ماسح الاول کا ایک پر شرکت اعلان اپنے ایام خلافت میں حضرت خلیفہ مسیح الاول رضہ نے یہ پر شوکت اعلان فرما دیا تھا :- " مجھے نہ <mark>کس</mark>ی انسان نے نہ <mark>کس</mark>ی انجمن نے خلیفہ بنایا اور نہ میں <mark>کس</mark>ی انجمن کو اس قابل سمجھتا ہوں کہ وہ خلیفہ بنائے پس مجھ کو نہ <mark>کس</mark>ی انجمن نے بنایا اور نہ میں اس کے بنانے کی قدر کرتا ہوں۔اور اس کے چھوڑ دینے پر تھوکتا بھی نہیں اور نہ اب <mark>کس</mark>نی میں طاقت ہے کہ وہ اس خلافت نہ کہ کی ردا ء کو مجھ سے چھین لے" ( بدر - ۴ جولائی ۱۹۱۲ شه) اس بیان سے ظاہر ہے کہ حضرت خلیفہ المسیح الاول مخلیفہ کے غزل کے قائل نہیں تھے۔نیز اعلان فرمایا :- اس نے ریعنی خدا تعالے نے ناخل نہ تم میں سے <mark>کس</mark>ی