غلبہء حق — Page 254
۲۵۴ ترقی محال ہے " خطبه مندرجه پیغام صلح ۲۷ فروری ۴۹۳۶) اور خود پیغام صلح لکھتا ہے :- جب تک عنان ایسے امیر کے ہاتھ میں نہ ہو جس کے ہاتھ پر عملی طور پر تن من دھن کی قربانی کی بیعت کی ہو مستقل اور پائندہ ترقی محال ہے۔یہ تب ہی ممکن ہے جبکہ ایک راجب الطاعت امیر کے ہاتھ میں جماعت کی باگ ڈور ہو۔تمام افراداس کے اشارہ پر حرکت کریں۔سب کی نگاہیں اس کی ہونٹوں کی جنبش ہیر ہوں۔جونہی اس کی زبان فیض ترجمان سے کوئی حکم مترشح ہو سب بلا حیل حجت اس پر عمل پیرا ہوں (پیغام صلح ، فروری ۱۹۳۶) جب حضرت خلیفة المسیح الثانی رضی اللہ عنہ جماعت کو ایسی ہدایات دیتے تھے۔تو یہ امران لوگوں کے نزدیک پیر پرستی ہوتا تھا۔لیکن ۲۳ سال کے تجربہ کے بعد جب یہ امران لوگوں کی سمجھ آگیا۔کہ واجب الاطاعت امیر کے بغیر صبح تنظیم قائم نہیں ہو سکتی۔تو ان کی طرف سے مولوی محمد علی صاحب کو واجب لامات امیر قرار دینے کی کوششیں ہونے لگیں۔مگر جماعت کا واجب الاطاعت امیر تو خلیفہ ہی ہو سکتا ہے۔اب پچھتائے کا ہوت ، جب چڑیاں چگ گئیں کھیت ایک اہم واقعہ کا ذکر :۔ایک اہم واقعہ کا ذکر اس موقعہ پر از بس ضروری ہے۔حضرت خلیفہ مسیح الاول رض کے زمانہ میں جب بعض لوگوں کے متعلق جماعت میں یہ چہ میگوئیاں ہونے لگیں۔کہ وہ خلیفہ ایسے طلال کی پوزیشن کو گرانے کی