غلبہء حق — Page 16
ایک وصیت لکھ کر شیخ میاں محمد صاحب کو بھیجدی که سات آدمی جو اس فتنہ کے بانی ہیں اور جن کے دستخط سے یہ سر کو نکلے تھے اور جن کا سرغنہ مولوی صدر الدین ہے میرے جنازہ کو ہاتھ نہ لگائیں اور نہ ہی نماز جنازہ پڑھائیں چنانچہ اس پر عمل ہوا صفحہ ، وہ پر تحریر فرماتی ہیں:۔اگر چہ مولوی صدر الدین امیر مقرر ہوا ہے۔مگر تمام اختیارات الحاج شیخ میاں محمد کے سپرد ہوئے ہیں اور دہ انجمن کے پریذیڈنٹ مقرر ہوئے ہیں۔“ صفحہ پر تحریر فرماتی ہیں : حضرت امیر مرحوم و مغفور نے اپنے آخری چند ایام میں ایک تحریر لکھی ہے میری زندگی کا ایک دردناک وزن یہ تحریر سالانہ جلسہ کے موقعہ پر جنرل کونسل میں پیش ہوگی اور ارادہ ہے کہ اس کو چھو اگر جنرل کونسل کے ممبران کو دی جائے۔آپ کو بھی اس کی ایک نقل بھجواؤں گی " محترمہ بیگم صاحبہ کی چٹھی میں بعض اور دردناک واقعات بھی لکھے ہیں۔مگر سردت ہم اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔خدا تعالیٰ نے حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود کو شروع خلافت میں ہی الماما ان لوگوں کے متعلق بتلا دیا تھا کیمر نیم کہ خدا ان کو پھاڑ دے گا۔اب دیکھ لو فتح کس کی ہوئی۔خدائے قادر و توانا کی یا اہل پیغام جنگ کی تعلیوں کی : و