غلبہء حق — Page 221
۲۲۱ واقعات نے اس الہام کو حضرت خلیفہ ایسیح الثانی رضی اللہ عنہ کے متعلق ثابت کر دیا ہے آپ نے حضرت اسماعیل کی طرح اپنی والدہ کے ساتھ ایک وادی غیر ذی زرع میں ہجرت فرمائی اور شہر آباد کیا جس کا نام ربوہ ہے۔اس اسماعیل کو درخت اس لیے قرار دیا گیا ہے کہ اس کی شاخوں تلے لوگ روحانی راحت پانے والے تھے چنانچہ آپ کی شاخیں اب مشرق و مغرب میں پھیل کر دنیا کو روحانی سایہ سے مستفیض کر رہی ہیں جو در اصل آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا ہی فیض ہے۔یزیدیوں کا اخراج فاروقی صاحب لکھتے ہیں :- پھر مرزا صاحب کو قادیان کے متعلق الہام ہوا اخرج مِنْهُ اليزيديون تذكره من ا یعنی یزید صفت لوگ اس بستی میں پیدا ہونگے۔اب یزیدی کسی خاص قوم با قبیلہ کا نام نہیں بلکہ یزید پلید کی رعایت سے اس کے پیرو کاروں کو یزیدی کہا جاتا ہے۔کوئی ایسا خلیفہ ہو گا جو یزید کی طرح خلافت حقہ اسلامیہ کا دعویدار ہوگا۔پھر خدا تعالیٰ ایسے سامان کرے گا کہ یہ خلیفہ مع اپنے پیرو کے قادیان سے نکال دیا جائے گا جیسا کہ اخرج کے لفظ سے ظاہر ہے اس کی تخصیص کرنے کے لیے حضرت مرزا صاحب کو بلائے "دمشق" تذكره منشاء کا بھی انعام ہوا تھا۔واضح ہو کہ یزید کا پایہ تخت دمشق تھا اسی قسم کی ایک بلا قادیان میں بھی پیدا ہو جائے گی۔فتح حق عش ۲ - ۴۷) الہ جواب : حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ درج کر کے ازالہ اوہام