غلبہء حق

by Other Authors

Page 149 of 304

غلبہء حق — Page 149

۱۴۹ اس عبارت کا بظا ہر انکوائری کمیشن کے بیان سے ایک لفظی سا اختلاف نظر آتا ہے لیکن ان دونوں عبارتوں نہیں کوئی حقیقی اختلاف نہیں اور اس عبارت میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس پیشگوئی کا مظہر اوّل ہونے سے ہرگز انکار نہیں کیا گیا بلکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے احمد نام کا مظہر اول ہونے کی وجہ سے ہی ضمنی طور پر اس پیش گوئی میں رسول کریم صلی اللہ علیہ ولم کے متعلق بھی خبر تسلیم کی گئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے اس شکوئی کا صرف غیر ضمنی مصداق ہونے کی نفی کی گئی ہے۔کیونکہ یہ پیش گوئی صراحتاً آپ کے نزدیک مسیح موعود سے متعلق ہے اور آپ کی میسج موعود علیہ السلام کے اس کا اصل مصداق ہونے سے مراد انوار خلافت میں یہی ہے کہ اس آیت میں بالتصریح پیشگوئی مسیح موعود سے متعلق ہے۔کیونکہ خود حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اپنی کتاب اعجاز مسیح میں تحریر فرمایا ہے : أشار عیسی بِقَوْلِهِ كَذَريعَ أَخْرَجَ شطة إلى قَوْمِ آخَرِينَ مِنْهُمْ و إما مهم الْمَسِيحَ بَلْ ذَكَرَ اسْمُهُ أحْمَدَ بالتصريح الم راعجاز المسیح باب ثالث ص ۲ (۲۴) یعنی عیسی علیہ السلام نے اپنے قول کزریع اخرج شطاء میں آخرین منہم والی قوم دینی جماعت احمدیہ ناقل) اور ان کے امام کی طرف اشارہ کیا ہے۔بلکہ اس امام کا نام تصریح کے ساتھ (یعنی کھلے طور پر) احمد بتایا ہے۔پس جب حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اس بیان کے مطابق حضرت عیسے علیہ السلام نے آپ کا نام کھلے طور پر اس پیشگوئی میں احمد نبایا ہے ، تو